.

میسی کو دیوار گریہ پر "ٹسوے بہانا" مہنگا پڑ گیا، فلسطینی ناراض

بارسلونا کے مشہور فٹبالر کے اقدام سے فلسطینیوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اگرچہ کھیل اور سیاست کا کوئی باہمی تعلق نہیں لیکن کھلاڑیوں کی غیر جانب داری ہی ان کے لیے "امن کے سفیر" جیسے القابات کا ذریعہ ہوتی ہے۔ اسپین کے فٹبال کلب "بارسلونا" سے وابستہ مشہور فٹبالر اور ارجنٹائنی فٹبال ٹیم کے رکن لیونیل میسی خود کو غیرمتنازعہ رکھنے میں ناکام رہے ہیں۔ انہوں نے حال ہی میں مسجد اقصیٰ سے متصل "دیوار گریہ" کے سامنے یہودی مذہبی تعلیمات کے مطابق عبادت کر کے فلسطینی اورعرب باشندوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچائی ہے۔

عبرانی زبان نیوز پورٹل "فائیو" نے لیونیل میسی کی ایک تصویرشائع کی ہے جس میں میسی مسجد اقصٰی کی جنوب مغربی سمت میں واقع قدیم "دیوار گریہ" کے سامنے یہودی ٹوپی پہنے نہایت خشوع و خضوع کے ساتھ تلمودی تعلیمات کے مطابق مصروف عبادت دکھایا گیا ہے۔ یہودیوں کے لیے یہ جگہ نہایت مقدس اور مناجات کی قبولیت کے حوالے سے اہم ترین خیال کی جاتی ہے۔ یہودی روزانہ کی بنیاد پراس دیوار کے سامنے کھڑے ہو کر پہروں اپنے گناہوں کی معافی کی دعا کرتے ہوئے"ٹسوے بہاتے" اور عبادت میں مشغول رہتے ہیں۔

بارسلونا کے فٹبالر کا یہ متنازعہ اقدام موجودہ حالات میں زیادہ اہمیت کا حامل اس لیے بھی سمجھا جاتا ہے کیونکہ اس کی ٹیم "البلو گرانا" ان دنوں مقبوضہ فلسطین میں "امن کی آشا" کو فروغ دینے کے لیے فٹبال کے مختلف مقابلوں میں حصہ لے رہی ہے۔

لیونیل میسی کی دیوار براق کے سامنے یہودیوں کے ساتھ مل کرعبادت کی ادائی پر فلسطینی اور عرب باشندوں میں شدید ردعمل بھی سامنے آیا ہے۔ ردعمل کا سب سے زیادہ زور سماجی رابطے کی ویب سائٹس "فیس بک" اور "ٹیوٹر" پر دیکھا جا رہا ہے جہاں میسی کے فینز انہیں کڑی تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔

میسی کی "دیوار براق" کے سامنے آہ و بکا پر تنقید صرف فلسطینیوں تک محدود نہیں بلکہ بارسلونا کے روایتی حریف "ریل میڈریڈ" فٹبال کلب نے بھی اس تصویر کو اچھال کراپنا انتقام لینے کی بھرپورکوشش کی ہے۔ اس سے قبل بارسلونا کے مخالف رائل گروپ نے گیرارڈ بییکے کی ایک تصویرکو بھی خوب اچھالا تھا، جس میں انہیں اپنی ایک کولمبین گرل فرینڈ کے ساتھ اسرائیل کے دورے پرآئے دکھایا گیا تھا۔

بارسلونا کے حریف فٹبال کلبوں کی جانب سے اپنے مخالف کے کھلاڑیوں کے اسکینڈل تلاش کرکے انہیں منظرعام پرلانے کا سلسلہ بارسلونا کے ٹیکنیکل ڈائریکٹر اور کئی دیگر عہدیداروں تک پھیلا ہوا ہے، جن کی گرل فرینڈز کے ہمراہ اسرائیلی دوروں کی تصاویر سماجی رابطے کی ویب سائٹس کی زینت بنتی رہی ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کےمطابق اسرائیل عالمی شہرت یافتہ کھلاڑیوں اور معاشرے میں عوامی مقبولیت کے حوالے سے بلند پایہ شخصیات کواپنے ہاں مدعو کرتا رہتا ہے۔ مختلف ملکوں کی ٹیموں یا ان کے ہونہار کھلاڑیوں کو خصوصی دعوتوں پربلانے کا مقصد عالمی سطح پراسرائیل کا پرچم بلند کرنا اور صہیونی ریاست کی ساکھ کو بہتر بنانا ہوتا ہے۔

کچھ ہی عرصہ قبل فلسطین۔ اسرائیل کی "امن ٹیم" کے نام سے بنائی گئی ایک فٹبال ٹیم کا مقابلہ اسپین کے ریل میڈریڈ کلب کے ساتھ کرایا گیا تھا۔ اس سے قبل فلسطین ۔ اسرائیل مشترکہ فٹبال ٹیم کا ایک مقابلہ بارسلونا کے ساتھ بھی ہوچکا ہے جس میں اسرائیلی صدر شمعون پیریز کومہمان خصوصی تھے۔ اسی میچ میں فلسطینی اتھارٹی کے ایک سینیئر سیکیورٹی افسر میجر جنرل جبریل الرجوب اور کئی دوسری شخصیات بھی موجود تھیں۔