.

حکومت قاہرہ میں دھرنے مزید برداشت نہیں کرے گی:عدلی منصور

جرم کرنے والے کو بلاتفریق سزا ملے گی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کے عبوری صدر جسٹس عدلی منصور نے کہا ہے کہ ان کی حکومت قاہرہ کے دو مقامات پر معزول صدر محمد مرسی کے حامیوں کے ایک ماہ سے جاری احتجاجی دھرنوں کو پرامن طور پر ختم کرانے کے لئے تمام ممکنہ ذرائع استعمال کر رہی ہے۔

ان کا مزید یہ بھی کہنا تھا کہ حکومت شمالی قاہرہ میں رابعہ العدویہ اور النھضۃ سکوائر میں اخوانی کارکنوں کو مزید دھرنا جاری رکھنے کی اجازت نہیں دے گی اور ان دھروں کو ختم کرانے کے لئے ہم عوام کی جانب سے دیا گیا مینڈیٹ جلد استعمال کریں گے۔

ان خیالات کا اظہار عدلی منصور نے مصر کے نجی ٹی وی 'الیوم' کے پروگرام 'القاھرہ الیوم' میں بذریعہ ٹیلی فون اظہار خیال کرتے ہوئے کیا۔ ان کا کہنا تھا "نیشنل ڈیفنس کونسل کے تمام ارکان نے دھرنوں کو منتشر کرنے پر اتفاق کیا ہے، حکومت نے اگر فیصلہ کر لیا تو اس پر مناسب وقت عملدرآمد کر لیا جائے گا۔"

انہوں نے کہا کہ "قانون کی آؑڑ لیکر جرم کرنے والے کو عدالت کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔ عدالت کا حکم بلا تفریق نافذ کیا جائے گا۔"

عبوری صدر نے عوام سے وعدہ کیا کہ ملک کے بڑے حصے میں امن و امان رہے گا۔ ہم اپنے نیک عوام کی مدد سے ملک کو درپیش بحران کا خاتمہ کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔

"ہم ماضی کی طرف پیچھے لوٹ کر نہیں جائیں گے۔ حکومت کے لئے یہ ممکن نہیں کہ وہ مصر کو بحرانوں کی نذر ہوتا دیکھ کر ہاتھ پر ہاتھ رکھے بیٹھے رہیں۔"

جسٹس منصور عدلی نے اس بات کی ضرورت پر زور دیا کہ "مصر کے داخلی معاملات میں بیرونی ڈکٹیشن قبول نہیں کی جائے گی، ہم اپنے فیصلے خود کریں گے۔ ہم پر کسی قسم کا دباؤ نہیں ہے۔"