.

سابق امریکی سفیر برائے شام رابرٹ فورڈ کی مصر تعیناتی پر غور

رابرٹ فورڈ خطے کے حالات سے کافی حد تک واقفیت رکھتے ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی وزارتِ خارجہ شام میں تعینات سابق امریکی سفیر رابرٹ فورڈ کو مصر کے لئے امریکا کا سفیر تعینات کرنے کے پر غور کررہی ہے۔ یہ خبر ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب کہ امریکی اور یورپی سفیر مصری بحران کا ایک پر امن حل تلاش کرنے میں مصروف ہیں.

دو باخبر ذرائع نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنی کی شرط پر بتایا ہے کہ رابرٹ فورڈ اس منصب کو سنبھالنے کے لئے موزوں ترین شخص سمجھے جاتے ہیں۔ امریکی وزارت خارجہ نے اس موضوع پر اپنا ردِعمل دینے سے انکار کردیا ہے جبکہ مسٹر فورڈ کی جانب سے بھی رابطہ کے باوجود کوئی جواب نہیں دیا گیا۔

رابرٹ فورڈ روانی سے عربی بولتے ہیں اور وہ شام میں اسد خاندان کے 41 سالہ اقتدار کو ختم کرنے کی کوشش کرنے والے باغیوں کے لئے اپنی حمایت کی وجہ سے پہچانے جاتے ہیں۔ رابرٹ فورڈ میزبان ملک میں حزب اختلاف سے اچھے تعلقات رکھنے کی وجہ سے مشہور ہیں۔ رابرٹ فورڈ تعیناتی کے بعد این پیٹرسن کی جگہ لیں گے جن کو جمعرات کے روز وائٹ ہائوس نے نئی ڈپٹی وزیرِ خارجہ بطور امور برائے مشرقِ قریب کی ذمہ داری کیلئے نامزد کیا ہے۔

مسٹر فورڈ کو اکتوبر 2011ء میں ان کی حفاظت کے پیش نظر مختصر عرصے کے لئے شام سے واپس امریکا بلا لیا گیا تھا۔ ان کی واپسی کے چار ماہ بعد امریکا نے شام میں صورتحال کی مزید خرابی کے باعث اپنے ایمبیسی آپریشنز بند کردئیے تھے۔ مئی 2013ء کے دوران رابرٹ فورڈ شام کے شمالی علاقہ جات میں حزبِ اختلاف کی قیادت سے ملاقات کرنے آئے تھے۔ وہ شام میں خانہ جنگی کے آغاز کے بعد جانے والے سب سے اعلی امریکی عہدیدار ہیں۔

یاد رہے کہ ان کی امریکا میں مجوزہ تعیناتی کے وقت امریکا اور مصر کے درمیان تعلقات انتہائی نازک موڑ پر ہیں۔ امریکا نے معزول مصری صدر محمد مرسی کی اقتدار سے برطرفی کو فوجی بغاوت کا نام دینے سے انکار کردیا ہے۔

مشکل اور کٹھن سفارتی ذمہ داریاں رابرٹ فورڈ کے لئے کوئی نئی بات نہیں ہے۔ وہ عراق اور الجزائر میں اپنی خدمات پیش کرچکے ہیں اور1988ء سے 1991ء تک قاہرہ میں بطور کمرشل اتاچی تعینات رہے۔

گزشتہ ہفتے امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے اپنے نائب ولیم برنز کو قاہرہ بھیجا تھا تاکہ وہ یورپی اور عرب ممالک کے ساتھ مل کر مصر میں امن قائم کرنے کی خاطر سے معزول صدر محمد مرسی کی جماعت اخوان المسلمون اور نگران حکومت کے درمیان کوئی سیاسی معاہدہ طے کروا سکیں۔