.

مصر میں جاری بحران کے خاتمے کے لیے غیرملکی ایلچیوں کے قیام میں توسیع

امریکی اور یورپی ایلچیوں کی اخوان کی قیادت اور عبوری عہدے داروں سے بات چیت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر میں منتخب جمہوری صدر کی برطرفی سے شروع ہونے والے بحران کے خاتمے کے لیے کوشاں بین الاقوامی ایلچیوں نے سوموار کو قاہرہ میں اپنے قیام میں توسیع کردی ہے۔

امریکی نائب وزیرخارجہ ولیم برنز اور یورپی یونین کے ایلچی برنارڈینو نے اپنی اپنی ٹیم کے ساتھ مصری دارالحکومت میں ڈیرے ڈالے ہوئے ہیں اور وہ بحران کے حل کے لیے ارباب اقتدار وسیاست سے ملاقاتیں کررہے ہیں۔ انھوں نے اخوان المسلمون کے نائب مرشد عام خیرت الشاطرسے قاہرہ کی طرہ جیل میں بات چیت کی ہے۔

مصر کی سرکاری خبررساں ایجنسی مینا کی رپورٹ کے مطابق ولیم برنز کی خیرت الشاطر سے جیل میں ملاقات کے وقت یورپی یونین کے ایلچی برنارڈینو لیون اور قطر اور متحدہ عرب امارات کے اعلیٰ سفارتی نمائندے بھی موجود تھے۔ ولیم برنز اور لیون برنارڈینو اتوار کی رات واپس روانہ ہونے والے تھے لیکن انھوں نے قاہرہ میں اپنا قیام بڑھا دیا ہے تاکہ ان کی حالیہ ملاقاتوں کا کوئی مثبت نتیجہ سامنے آسکے۔

ولیم برنز نے مصر کی مسلح افواج کے سربراہ جنرل عبدالفتاح السیسی سے بھی ملاقات کی ہے اور ان سے بحران کے خاتمے کے لیے مختلف تجاویز پر تبادلہ خیال کیا ہے۔ قبل ازیں جنرل السیسی نے مختلف مذہبی جماعتوں کے قائدین سے بحران کے حل کے لیے بات چیت کی۔

تاہم ولیم برنز اخوان المسلمون کو اس کے موقف سے ذرہ برابر پیچھے ہٹانے میں ناکام رہے ہیں اور جماعت کی قیادت نے برطرف صدر محمد مرسی کی بحالی کے مطالبے سے دستبردار ہونے سے انکار کردیا ہے۔

اخوان کے سیاسی چہرہ حریت اور عدل پارٹی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ''ہم آئینی حاکمیت اور انقلاب کے رد پر مبنی کسی بھی سیاسی حل کا خیرمقدم کرتے ہیں''۔ امریکا،یورپی یونین اور عرب ایلچیوں کی بحران کے حل کے لیے سفارتی کوششوں کے باوجود اخوان المسلمون برطرف صدر محمد مرسی کی بحالی کے مطالبے پر مُصر ہے۔

جماعت نے قانون کی حکمرانی کے مطالبے پر اصرار کیا ہے جس سے اس کی یہ مراد ہے کہ فوج کا تین جولائِی کا اقدام واپس لیا جائے اور بحران کے حل کی کسی بھی تجویز میں ڈاکٹر محمد مرسی کی بحالی کی شرط شامل ہونی چاہیے۔اس کے علاوہ معطل آئین اور شوریٰ کونسل کو بھی بحال کیا جائے۔

ولیم برنز نے گذشتہ روز مصری وزیر خارجہ نبیل فہمی سے قاہرہ میں اخوان المسلمون کے دو دھرنوں سے پیدا ہونے والے بحران کے حل کے لیے بات چیت کی تھی۔ نبیل فہمی نے ان خدشات کو مسترد کردیا کہ حکومت ان دھرنوں کو ختم کرنے کے لیے طاقت کے استعمال کا کوئی ارادہ رکھتی ہے۔

امریکا اور یورپی یونین کے عہدے داروں نے گذشتہ دو ہفتے کے دوران برطرف صدر مرسی اور مسلح افواج کے سربراہ جنرل عبدالفتاح السیسی کے حامیوں کے درمیان مفاہمت کرانے کے لیے قاہرہ کے متعدد دورے کیے ہیں۔ ان میں یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کیتھرین آشٹن، جرمن وزیر خارجہ گائیڈو ویسٹر ویلے بھی شامل ہیں۔

امریکی وزیردفاع چک ہیگل نے بھی واشنگٹن سے مصر کے آرمی چیف جنرل عبدالفتاح السیسی سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا ہے اور ان پر زور دیا ہے کہ وہ تمام سیاسی دھڑوں کی شمولیت سے سیاسی عمل شروع کریں۔ تاہم جنرل السیسی نے ان کے مطالبے کو تسلیم کرنے کے بجائے الٹا امریکا پر زور دیا ہےکہ وہ مرسی کے حامیوں پر احتجاج ختم کرنے کے لیے دباؤ ڈالے۔