شام: حلب شہر میں سب سے بڑے فوجی ہوائی اڈے پر باغیوں کا قبضہ

خود کش بمبار نے چھ ٹن بارود سے بھرا ٹینک ہوائی اڈے سے ٹکرا دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

شام میں باغی فوج "جیش الحر" نے دس ماہ کی طویل لڑائی کے بعد حلب شہر کے مرکزی فوجی ہوائی اڈے پر"منگ" پر قبضے کا دعویٰ کیا ہے۔

جیش الحر کے ذرائع نے"العربیہ" کو بتایا کہ 'منگ' فوجی اڈے پر قبضے سے قبل ایک خودکش بمبار نے چھ ٹن بارود سے بھرے ٹینک کو ہوائی اڈے ہیڈ کواٹر سے ٹکرا دیا، جس کے نتیجے میں بڑے پیمانے پرعمارتیں زمیں بوس ہوگئی ہیں۔ خودکش حملے میں بشارالاسد کے کئی وفادار سپاہی اور افسر ہلاک اور متعدد فرار ہونے میں بھی کامیاب ہو گئے ہیں۔

خیال رہے کہ حلب میں"منگ" فوجی اڈے پر کنٹرول کے لیے باغیوں اور سرکاری فوج کے درمیان گذشتہ دس ماہ سے گھمسان کی لڑائی ہوتی رہی ہے۔ طویل لڑائی کے بعد گزشتہ روز باغی ہوائی اڈے میں داخل ہونے میں کامیاب ہوئے۔

باغی فوج کے ذریعے نے بتایا کہ فوج نے "منگ" فوجی اڈے کے بیشتر حصوں کا کنٹرول سنھبال لیا ہے۔ کچھ مقامات پر مورچہ بند سرکاری فوجیوں اور باغیوں کے درمیان اب بھی فائرنگ کا تبادلہ ہو رہا ہے تاہم جلد ہی باغی فوجی اڈے کا مکمل کنٹرول سنھبال لیں گے۔

باغیوں کے ذرائع کے مطابق انصار و مہاجرین بریگیڈ سے تعلق رکھنے والے ایک خود کش بمبار نے بارود سے بھرا ٹینک ہوائی اڈے کے مرکزی کنٹرول روم کی عمارت سے ٹکرایا اور اسے تباہ کر دیا گیا۔ خود کش حملے کےنتیجے میں ہوائی اڈے کے کئی دوسرے مرکزی دفاتر بھی تباہ ہو گئے، جس کے بعد جیش الحر کو پیش قدمی کا موقع ملا۔

حلب میں منگ فوجی ہوائی اڈہ دفاعی اعتبار سے نہایت اہمیت کا حامل ہے۔ حلب میں باغیوں کو پسپا کرنے میں اب تک اس فوجی اڈے سے اڑنے والے جہاز اور جنگی ہیلی کاپٹراہم کردار ادا کرتے رہے ہیں۔ ہوائی جہازوں کے علاوہ بیک وقت 35 جنگی ہیلی کاپٹر اس اڈے سے اڑان بھرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ منگ ملٹری ایئرپورٹ پر باغیوں کا قبضہ شہر کو فتح کرنے کی طرف اہم پیش رفت ثابت ہو سکتا ہے۔ اس فوجی اڈے پر قبضے کے بعد کئی محاذوں پر پسپا ہونے والے باغیوں کے حوصلے بھی بلند ہوئے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں