.

عدلی نے امریکی سینیٹروں کے خیالات رد کرد یے، مصالحتی مشن ناکام ؟

عوامی منڈیٹ والے جیلوں میں اور غیر منتخب حکومت میں: امریکی سینیٹر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کے منتخب صدر مرسی کی برطرفی کے بعد پیدا شدہ بحرانی صورتحال سے نمٹنے ، تمام سیاسی جماعتوں کو ایک صفحے پر لانے اور جمہوری عمل کو آگے بڑھانے کے مشن کے ساتھ شروع کی گئی غیر ملکی سفیروں کی کوششیں ناکام ہونے کا اعلان عبوری حکومت کر سکتی ہے ۔

سرکاری ٹیلی ویژن کے مطابق عبوری صدر عدلی منصور امریکی سینیٹر جان مکین اور سینیٹر گراہم کے ان خیالات '' فوج تمام سیاسی اسیران کو رہا کرکے ایک قومی مکالمے کا آغاز کرے تاکہ ملک کو واپس جمہوری حکمرانی کی جانب لایا جا سکے'' کو نا قابل قبول قرار سمجھتے ہیں ، جبکہ سی بی سی ٹی وی کے لامیس الحدید نے غیر ملکی سفیروں کی مصالحتی کوششوں کو مصری عوام کی توہین قرار دیا ہے ۔ بعض دوسرے ٹی وی چینل بھی ان کوششوں پر ردعمل دیتے ہوئے آتشیں لہجہ اختیار کر رہے ہیں۔

اس صورت حال میں سرکاری اخبا الاہرام کے مطابق عبوری حکومت کے ذرائع کا کہنا ہے کہ ''حکومت جاری غیر ملکی کوششوں کے انجام کا جلد اعلان کر دے گی۔''واضح رہے دو امریکی سینیٹر بطور خاص امریکی صدر اوباما کی ہدائت پر مصر پہنچے ہیں تاکہ مشرق وسطی میں امریکی مفادات کے حوالے سے اہم ملک مصربحران سے نکل آئے۔ واضح رہے کہ مصری تاریخ کے پہلے منتخب صدر مرسی کی تین جولائی کو جنرل سیسی کے ہاتھوں برطرفی کے بعد مصر سخت بحرانی ماحول کا شکار ہے جبکہ احتجاجی مظاہروں نے ماہ جون سے ہی ملک کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔

صورتحال زیادہ بگڑنے کے اندیشے کے پیش نظر امریکا، یورپی یونین، قطر، اور متحدہ عرب امارات کے سفراء اس کوشش میں ہیں فوج اور مرسی کے حامیوں کے درمیان مزید خونریزی نہ ہو۔ لیکن مصر کے سرکاری اخبار کے مطابق کسی پیش رفت کا امکان نہیں دیکھتا اور اخوان المسلمون کے رویے کو انتہا پسندانہ قرار دیتا ہے۔ اس لیے اب عبوری حکومت سمجھتی ہے کہ اسے اپنے دیے گئے ''روڈ میپ'' کے مطابق عمل آگے بڑھانا چاہیے تاکہ نو ماہ میں انتخابات ممکن ہو جائیں۔

واشنگٹن میں امریکی سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے ایک اہم افسر کا امریکی سینیٹروں کی کوششوں پر اس تناظر میں کہنا تھا ''ہم اب بھی اپنی مصالحتی کوششوں کے حوالے پر امید ہیں، اور سمجھتے ہیں کہ کشیدگی کم ہوگی، تشدد رکے گا اور ایسا سیاسی ماحول بنے گا جس میں تمام سیاسی جماعتیں شریک ہوں گی۔''

اس تناظر میں جو سب سے اہم اور دلچسپ بات سامنے آئی ہے وہ بلاشبہ عبوری حکومت کے لیے قبل قبول نہیں ہو سکتی۔ امریکی سینیٹر گراہم نے جنرل سیسی، عبوری نائب صدر البرادعی، اور عبوری وزیر اعظم حاضم الببلاوی کے ساتھ ملاقات کے بعد میڈیا سے بات چیت کے دوران دو ٹوک کہہ دیا ''جنہیں عوام نے منتخب نہیں کیا تھا وہ حکومت میں ہیں، جنہیں عوام نے مینڈیٹ دیا وہ جیلوں میں ہیں، یہ صورتحال قابل قبول نہیں ہو سکتی.