.

ایران کی راکٹ اور بیلسٹک میزائل تجربات کی نئِی جگہ کا انکشاف

راکٹ کی تیاری اور اس کو چھوڑنے کے لیے ایک ٹاور اور پیڈ کی تعمیر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران نے راکٹ چلانے کے لیے ایک نئی جگہ تعمیر کی ہے جس کو بیلسٹک میزائلوں کے تجربات کے لیے بھی استعمال کیا جاسکے گا۔

اس بات کا انکشاف عسکری سراغرسانی کی اطلاعات دینے والے جریدے جینز انٹیلی جنس ریویوز میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں کیا گیا ہے۔ جینز نے مواصلاتی سیارے سے حاصل کردہ تصاویر کے تجزیے کے بعد بتایا ہے کہ گذشتہ تین سال کے دوران ایران میں ایک جگہ پر تعمیراتی کام بڑے زورشور سے جاری رہا ہے۔ وہاں راکٹ کی تیاری اور اس کو چھوڑنے کے لیے ایک ٹاور اور پیڈ بنایا گیا ہے۔ اس کے علاوہ وہاں ایک انتظامی اور سپورٹ سیکشن بھی تعمیر کیا گیا ہے۔

ایران نے حالیہ برسوں کے دوران اپنے خلائی پروگرام کو ترقی دینے کے لیے بڑی تیزی سے پیش رفت کی ہے۔ جنوری میں اس نے اپنے میزائل ڈلیوری سسٹم کی صلاحیت جانچنے کے لیے ایک بندر کو خلاء میں بھیجا تھا جو بحفاظت واپس آگیا تھا۔

مغربی ممالک اس خدشے کا اظہار کرتے رہے ہیں کہ ایران طویل فاصلے تک مار کرنے والی بیلسٹک ٹیکنالوجی کو مدار میں سیٹلائٹس کو بھیجنے کے لیے استعمال کر سکتا ہے اور ان کو جوہری وار ہیڈزچھوڑنے کے لیے بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔ اسرائیل بھی ایران کے جوہری اور میزائل کے بارے میں اپنے مزعومہ خدشات کا اظہار کرتا رہتا ہے۔

ایران کی میزائل اور راکٹ چھوڑنے کی مبینہ جگہ دارالحکومت تہران سے قریباً ایک سو کلومیٹر شمال مشرق میں واقع قصبے شاہ رود کے نزدیک ہے۔ اس کی اطلاع ایرانی حکام کے اس اعلان کے چند ہفتے کے بعد سامنے آئی ہے جس میں انھوں نے کہا تھا کہ وہ سیٹلائٹ چھوڑنے کے لیے ایک نئے خلائی مرکز کا افتتاح کرنے والے ہیں۔

جینز کے مدیر میتھیو کلیمنٹ کا کہنا ہے کہ شاہ رود ان تین جگہوں میں سے ایک ہے جو مستقبل میں ایران کے خلائی پروگرام اور بیلسٹک میزائلوں کے تجربات کے لیے استعمال ہوں گی۔ دوسری دو جگہیں خلائی سیارے چھوڑنے کے لیے استعمال کی جائیں گی۔ ایرانی حکام نے فوری طور پر اس رپورٹ پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔