حملے کی خبر کے بعد بشار الاسد کی سرکاری ٹی وی پر رونمائی

مبینہ حملے میں صدر کے زخمی ہونے کی تصدیق نہیں ہو سکی: اپوزیشن جنرل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

شام فوج سے منحرف ہونے کے بعد باغیوں کی صفوں میں شامل ہونے والے ایک جنرل کا کہنا ہے کہ شامی صدر بشار الاسد کے کانوائے کو جمعرات کی صبح اس وقت نشانہ بنایا گیا جب وہ دارلحکومت دمشق کی انس بن مالک مسجد میں عید الفطر کی نماز پڑھنے کے لئے جا رہے تھے والے۔ تاہم اس حملے میں بشار الاسد کے زخمی ہونے کے بارے میں دو ٹوک وضاحت نہیں ہے۔

جنرل فراس البيطار کے بقول بشار الاسد کے کانوائے پر سترہ راکٹ داغے گئے۔ اپوزیشن کو حکومتی صفوں میں موجود اپنے ذرائع سے اطلاع ملی تھی کہ صدر بشار الاسد دارلحکومت کے قلب میں واقع الامومین سکوائر میں نماز عید ادا کریں گے، جس کے بعد ان پر مبینہ حملے کی منصوبے کی بندی کی۔

جنرل البیطار نے بتایا کہ وہ حملے میں بشار الاسد کے زخمی ہونے کی تصدیق نہیں کر سکتے۔

حملے کی خبر پھیلتے ہی بشار الاسد کو دمشق ہی کی ایک مسجد میں نماز عید ادا کرتے دکھایا گیا۔ اپوزیشن کے ایک نماٗئندے وحید صقر نے 'العربیہ' کو بتایا کہ بشار الاسد شاید اس قافلے میں شامل نہیں تھے جسے نشانہ بنایا گیا۔

شامی اپوزیشن نے بتایا ہے کہ صدارتی محل کے علاقے الروضہ کو جانے والے تمام راستے حملے کے بعد بند کر دیئے گئے ہیں۔

یاد رہے شام سمیت متعدد عرب اور اسلامی ملکوں میں جمعرات کو عید الفطر منائی جا رہی ہے۔ دوسری طرف تازہ ترین اطلاع یہ آئی ہے کہ شام کے سرکاری ذرائع نے اس حملے کی تردید کی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں