.

حملے کی خبر کے بعد بشار الاسد کی سرکاری ٹی وی پر رونمائی

مبینہ حملے میں صدر کے زخمی ہونے کی تصدیق نہیں ہو سکی: اپوزیشن جنرل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام فوج سے منحرف ہونے کے بعد باغیوں کی صفوں میں شامل ہونے والے ایک جنرل کا کہنا ہے کہ شامی صدر بشار الاسد کے کانوائے کو جمعرات کی صبح اس وقت نشانہ بنایا گیا جب وہ دارلحکومت دمشق کی انس بن مالک مسجد میں عید الفطر کی نماز پڑھنے کے لئے جا رہے تھے والے۔ تاہم اس حملے میں بشار الاسد کے زخمی ہونے کے بارے میں دو ٹوک وضاحت نہیں ہے۔

جنرل فراس البيطار کے بقول بشار الاسد کے کانوائے پر سترہ راکٹ داغے گئے۔ اپوزیشن کو حکومتی صفوں میں موجود اپنے ذرائع سے اطلاع ملی تھی کہ صدر بشار الاسد دارلحکومت کے قلب میں واقع الامومین سکوائر میں نماز عید ادا کریں گے، جس کے بعد ان پر مبینہ حملے کی منصوبے کی بندی کی۔

جنرل البیطار نے بتایا کہ وہ حملے میں بشار الاسد کے زخمی ہونے کی تصدیق نہیں کر سکتے۔

حملے کی خبر پھیلتے ہی بشار الاسد کو دمشق ہی کی ایک مسجد میں نماز عید ادا کرتے دکھایا گیا۔ اپوزیشن کے ایک نماٗئندے وحید صقر نے 'العربیہ' کو بتایا کہ بشار الاسد شاید اس قافلے میں شامل نہیں تھے جسے نشانہ بنایا گیا۔

شامی اپوزیشن نے بتایا ہے کہ صدارتی محل کے علاقے الروضہ کو جانے والے تمام راستے حملے کے بعد بند کر دیئے گئے ہیں۔

یاد رہے شام سمیت متعدد عرب اور اسلامی ملکوں میں جمعرات کو عید الفطر منائی جا رہی ہے۔ دوسری طرف تازہ ترین اطلاع یہ آئی ہے کہ شام کے سرکاری ذرائع نے اس حملے کی تردید کی ہے۔