.

سعودی عرب: دہشت گردی کے حملوں کی سازش کے الزام میں دو مشتبہ افراد گرفتار

بیرون ملک القاعدہ سے روابط اور خودکش بم حملوں کی منصوبہ بندی کا الزام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب میں دو مشتبہ افراد کو خودکش بم حملوں کی منصوبہ بندی کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا ہے اور ان سے تفتیش کی جارہی ہے۔

سعودی حکام کا کہنا ہے کہ یہ دونوں افراد بیرون ملک القاعدہ کی قیادت کے ساتھ رابطے میں تھے اور خودکش حملوں کی منصوبہ بندی کررہے تھے۔ ایک سکیورٹی عہدے دار نے بتایا ہے کہ سوشل میڈیا پر ان کے درمیان پیغامات کے تبادلے کی نگرانی کے نتیجے میں ان کی گرفتاری عمل میں آئی ہے۔ان میں سے ایک کا تعلق یمن اور دوسرے کا چاڈ سے ہے۔

سعودی وزارت داخلہ سے تعلق رکھنے والے اس سرکاری عہدے دار نے ابتدائی تحقیقات کے حوالے سے بتایا ہے کہ ''یہ دونوں مشتبہ افراد مملکت میں خودکش حملوں کی منصوبہ بندی کررہے تھے۔ ان کے قبضے سے کمپیوٹر ہارڈوئیر، الیکٹرانک ڈیوائسز اور موبائل فون برآمد کر لیے گئے ہیں''۔

سعودی عرب کی سرکاری خبررساں ایجنسی ایس پی اے کی اطلاع کے مطابق :''سکیورٹی حکام نے سماجی نیٹ ورکس پر منافرت پر مبنی پیغامات کی کڑی نگرانی کے بعد ان دونوں افراد کی گرفتاری عمل میں آئی ہے۔ ان مِیں چاڈ سے تعلق رکھنے والے مشتبہ شخص کو اس سے پہلے سعودی عرب سے بے دخل کیا گیا تھا لیکن وہ کسی دوسرے ملک کے پاسپورٹ پر دوبارہ واپس آگیا تھا''۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ان دونوں نے گم راہ کن خیالات کے حامل گروہ کو اپنی خدمات کی پیش کش کی تھی۔ ان سے ضبط کیے گئے کمپیوٹر ہارڈوئیر اور موبائل فونز کو دیکھنے کے بعد ان کی گم راہ کن گروپ کے ساتھ ہونے والی پیغام رسانی کا اندازہ ہوا ہے۔ دونوں سوشل نیٹ ورکس پر ابوالفداء الدوکالئی، ہسپوئیے اور رصاح فی قصاح وغیرہ کے نام سے پیغامات بھیجتے رہے تھے۔