.

مصر: اخوان کا ایک ماہ سے طویل دھرنا عید کے روز بھی جاری رہا

حکومت نے طاقت کا استعمال موخر کردی، امن اولین ترجیح ہے: حازم ببلاوی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر میں اخوان المسلمون کے ہزاروں احتجاجی کارکنوں نے عید کے روز بھی معزول صدر مرسی کی بحالی کے لیے نہ صرف احتجاج جاری رکھا بلکہ دیگر قصبات اور شہروں سے اخوانی اپنے اہل خانہ کے ساتھ عید منانے کے لیے مسجد رابعہ العدویہ پہنچ گئے۔ شیر خوار بچوں اور خواتین کی شرکت کے باعث ''عید میلے'' کا ماحول بن گیا۔

طاقت استعمال کرنے کی صورت نائب صدر البرادعی کے مستعفی ہو جانے کے خطرے کے پیش نظر فوج کی حمائت یافتہ عبوری حکومت نے بزور دھرنا ختم کرانے کا فیصلہ فی الحال مؤخر کر لیا ہے۔ سرکاری ذرائع نے یہ تاثر بھی دیا ہے کہ اخوان کے ساتھ بات چیت کا بالواسطہ سلسلہ ابھی منقطع نہیں ہوا ہے۔

درایں اثناء عبوری وزیر اعظم حاذم الببلاوی نے وزیر داخلہ کی معیت میں مرکزی سکیورٹی فورسزکے ہیڈ کوارٹر کا دورہ کیا تاکہ حکومت کے حامی شدت پسندوں کو مطمئن کر سکیں، کہ عبوری حکومت دھرنے کے شرکاء کے خلاف کارروائی کے لیے تیار ہے۔ اس موقع پر عبوری وزیر اعظم نے کہا "امن و امان حکومت کی اولین ترجیح ہے، کوئی معاشرہ بھی امن و امان کے بغیراستحکام پزیر نہیں ہو سکتا۔ ریاست کا اقتدار اعلی، شہریوں کی زندگیاں اور ان کی املاک کے تحفظ کا امن وامان سے گہرا تعلق ہے۔''

واضح رہے بدھ کو عبوری حکومت کی جانب سے غیر ملکی سفیروں کی مصالحتی کوششیں ناکام ہونے کے اعلان ہی کے روز امریکا اور یورپی یونین کے نمائندے بھی واپس چلے گئے تھے۔ بعد ازاں فوج کی حمائت یافتہ عبوری حکومت نے دھرنے جاری رکھنے کی اجازت نہ دینے اور

ان کے خلاف طاقت استعمال کرنے کا عندیہ دیا تھا۔ تاہم جمعرات کو عیدالفطر کے موقع پر قاہرہ کے شمال مغرب میں موجود مسجد رابعہ عدویہ کے علاقے میں جاری دھرنا عملا ایک احتجاجی میلے کا روپ دھار چکا تھا ۔ قاہرہ کے باہر سے بھی مرسی کے حامی اپنے اہل خانہ سمیت دھرنے کی جگہ پہنچ گئے۔

ایک 35 سالہ خاتون غادا ادریس اپنے شوہر، دو ننھے بچوں اور دوماہ کی ایک بچی کے ساتھ اپنی موٹر کار میں سوارہو کر دھرنے کی جگہ پہنچی تو اس کا کہنا تھا'' وہ اس لیے دور افتادہ صوبے منایا سے قاہرہ آئی ہے کہ وہ کچھ مختلف کرنا چاہتی ہے۔'' دھرنے میں عید کے روز ہماری پر امن شرکت سے وہ جان لیں گے کہ لوگ حسنی مبارک کا دور واپس لانے کے حق میں نہیں ہیں۔''