مصر: مرسی حامیوں کے دھرنے زبردستی ختم کرانے کا حتمی فیصلہ

عبوری وزیراعظم کی ازخود دھرنے ختم کرنے والوں کو مفت ٹرانسپورٹ کی پیش کش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

مصر کے عبوری وزیراعظم حازم الببلاوی نے اعلان کیا ہے کہ قاہرہ مِیں برطرف صدر محمد مرسی کے دھرنوں کو ختم کرانے کا حتمی فیصلہ کر لیا گیا ہے۔

انھوں نے بدھ کو ایک نیوز کانفرنس میں مظاہرین پر زوردیا ہے کہ وہ دھرنے ختم کرکے گھروں کو لوٹ جائیں۔انھوں نے کہا کہ رابعہ العدویہ اسکوائر اور النہضہ اسکوائر میں رضا کارانہ طور پر دھرنے ختم کرنے والوں کو حکومت ٹرانسپورٹ کی مفت سہولت مہیا کرے گی۔

عبوری وزیراعظم نے کہا کہ قبل ازیں رمضان المبارک کے احترام میں دھرنے دینے والوں کو زبردستی منتشر نہیں کیا گیا تھا۔انھوں نے ڈاکٹر مرسی کے حامیوں کو خبردار کیا کہ وہ سکیورٹی فورسز کے خلاف تشدد کے استعمال سے گریز کریں۔اگر انھوں نے ایسا کیا تو ان کا طاقت سے فوری جواب دیا جائے گا۔

انھوں نے واضح کیا کہ ''صرف جرائم میں ملوث افراد کو گرفتار کیا جائے گا''۔مصر کے عبوری حکمران غیرملکی ثالث کاروں کی مدد سے بحران کے حل کے لیے اخوان المسلمون کی قیادت کے ساتھ مذاکرات کرتے رہے ہیں لیکن یہ نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوئے ہیں اور ملک میں سیاسی تعطل برقرار ہے۔

قبل ازیں مصر کے ایوان صدر نے منتخب صدرمحمد مرسی کی برطرفی کے بعد جاری بحران کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششوں کی ناکامی کا اعلان کردیا ہے۔ایوان صدر نے ڈاکٹر محمد مرسی کی سابقہ جماعت اخوان المسلمون کو خبردار کیا ہے کہ وہ اب نتائج کی ذمے دار ہوگی۔

ڈاکٹر مرسی کے ہزاروں حامیوں نے قاہرہ میں دومقامات النہضہ اسکوائر اور رابعہ العدویہ چوک میں گذشتہ پانچ ہفتوں سے دھرنے دے رکھے ہیں اور وہ تین جولائی کے فوجی اقدام کی واپسی اور منتخب جمہوری صدر کی بحالی کا مطالبہ کررہے ہیں۔واضح رہے کہ امریکا،یورپی یونین اور عرب ایلچیوں کی بحران کے حل کے لیے سفارتی کوششوں کے باوجود اخوان المسلمون برطرف صدر محمد مرسی کی بحالی کے مطالبے سے دستبردار نہیں ہوئی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں