.

مصر میں جاری بحران کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششیں ناکام

اخوان المسلمون اب نتائج کی ذمے دار ہوگی: ایوان صدر کا انتباہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کے ایوان صدر نے اعلان کیا ہے کہ ملک میں منتخب صدرمحمد مرسی کی برطرفی کے بعد جاری بحران کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششیں ناکام ہوگئی ہیں۔ایوان صدر نے ڈاکٹر محمد مرسی کی سابقہ جماعت اخوان المسلمون کو خبردار کیا ہے کہ وہ اب نتائج کی ذمے دار ہوگی۔

عبوری صدر عدلی منصورکے دفتر کی جانب سے بدھ کو جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ بحران کے حل کے لیے دس روز قبل شروع کی گئی بین الاقوامی سفارتی کوششوں کا آج اختتام ہوگیا ہے۔

''ریاست اخوان المسلمون کو ان کوششوں کی ناکامی اور ان کے مابعد رونما ہونے والے واقعات کے نتائج وعواقب کی مکمل ذمے دار سمجھتی ہے''۔بیان میں مزید کہا گیا ہے۔ واضح رہے کہ امریکا،یورپی یونین اور عرب ایلچیوں کی بحران کے حل کے لیے سفارتی کوششوں کے باوجود اخوان المسلمون برطرف صدر محمد مرسی کی بحالی کے مطالبے سے دستبردار نہیں ہوئی ہے۔

ڈاکٹر مرسی کے ہزاروں حامیوں نے قاہرہ میں دومقامات النہضہ اسکوائر اور رابعہ العدویہ چوک میں گذشتہ پانچ ہفتوں سے دھرنے دے رکھے ہیں اور وہ تین جولائی کے فوجی اقدام کی واپسی اور منتخب جمہوری صدر کی بحالی کا مطالبہ کررہے ہیں۔

مصری حکام نے خبردار کیا ہے کہ ان دھرنوں کے حوالے سے ان کے صبر کا پیمانہ لبریز ہورہا ہے۔ایوان صدر کے مذکورہ اعلامیے سے بھی یہ اندازے لگائے جارہے ہیں کہ مصری سکیورٹی فورسز برطرف صدر کے حامیوں کے دھرنوں کو ختم کرانے کے لیے طاقت کا استعمال کرسکتی ہیں۔

قبل ازیں ڈاکٹر مرسی کی برطرف کے خلاف احتجاجی مظاہروں کے دوران تشدد کے واقعات میں کم سے کم تین سو افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ان میں سے اسّی صرف ایک روز 27 جولائی کو سکیورٹی فورسز کی فائرنگ سے مارے گئے تھے۔

قاہرہ پہنچنے والے امریکا کے دوسنئیر سینیٹروں نے منگل کو خبردار کیا تھا کہ اگر مصری حکام نے جیلوں میں قید سیاسی رہ نماؤں کو رہا نہیں کیا اور وہ اخوان المسلمون سمیت تمام سیاسی دھڑوں کے ساتھ مذاکرات کا عمل شروع نہیں کرتے تو ملک میں خونریزی کا خطرہ ہے۔مصری حکومت اور سرکاری میڈیا نے اس انتباہ کو مسترد کردیا ہے۔

یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کیتھرین آشٹن نے مصری ایوان صدر کے بیان کے ردعمل میں کہا ہےکہ'' یورپی مصری فریقوں کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے اپنی ہرممکن کوششیں جاری رکھیں گے کیونکہ مصر میں جمہوری انتقال اقتدار کے لیے یہ بہت ضروری ہیں''۔

امریکی ،یورپی اور عرب ایلچیوں کے بعد ڈچ وزیرخارجہ قاہرہ پہنچے ہیں جہاں وہ آج اپنے مصری ہم منصب ،عبوری وزیراعظم اور عبوری صدر سے بات چیت کرنے والے تھے لیکن لگتا ہے کہ انھیں بہت تاخیر ہوگئی ہے اور اب ان کی سفارتی کوششوں کی کوئی اہمیت نہیں رہی ہے۔

ان سے قبل امریکی نائب وزیرخارجہ ولیم برنز اور یورپی یونین کے ایلچی برنارڈینو نے اخوان المسلمون کے نائب مرشد عام خیرت الشاطرسے قاہرہ کی طرہ جیل میں بات چیت کی تھی اور مصر کی مسلح افواج کے سربراہ جنرل عبدالفتاح السیسی سے ملاقات میں بحران کے خاتمے کے لیے مختلف تجاویز پر تبادلہ خیال کیا تھا۔

ولیم برنز اخوان المسلمون کو برطرف صدر محمد مرسی کی بحالی کےمطالبے سے دستبردار کرانے میں ناکام رہے ہیں۔اخوان کے سیاسی چہرہ حریت اور عدل پارٹی نے ایک بیان میں کہا کہ ''ہم آئینی حاکمیت اور انقلاب کے رد پر مبنی کسی بھی سیاسی حل کا خیرمقدم کرتے ہیں''۔جماعت قانون کی حکمرانی کے مطالبے پر مصر ہے جس سے اس کی یہ مراد ہے کہ فوج کا تین جولائِی کا اقدام واپس لیا جائے اور بحران کے حل کی کسی بھی تجویز میں ڈاکٹر محمد مرسی کی بحالی کی شرط شامل ہونی چاہیے۔