.

القاعدہ نے بم بنانے کے ماہر پاکستانی جنگجو یمن پہنچا دیے

امریکی ڈرون حملوں میں جنگجوؤں کی ہلاکت کے بعد یمنی عہدے داروں کا دعویٰ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمنی انٹیلی جنس کے ایک سنئیر عہدے دار کا کہنا ہے کہ بم بنانے کے ماہر پاکستانیوں سمیت غیر ملکی جنگجو سرحد پار کرکے یمنی علاقے میں داخل ہوچکے ہیں۔ وہ القاعدہ کے لیے رقم لائے ہیں یا پھر وہ دہشت گردی کے کیمپوں میں تربیت دیں گے۔

یمن کے ایک اور سکیورٹی عہدے دار نے بتایا ہے کہ ''القاعدہ اب فنی صلاحیتوں کے حامل اعلیٰ تعلیم یافتہ سعودیوں کو بھرتی کررہی ہے''۔ وہ یمن میں حال ہی میں امریکا کے بغیر پائیلٹ جاسوس طیاروں کے حملوں میں مارے گئے غیر ملکی جنگجوؤں کا حوالہ دے رہے تھے۔

اس عہدے دار نے بتایا کہ دہشت گرد گروپ بم بنانے کے ماہر پاکستانیوں کو بھی یمن میں لایا ہے۔ اس ضمن میں انھوں نے ایک پاکستانی بم ساز رجاع بن علی کا نام لیا ہے جو یمن میں حال ہی میں امریکی ڈرون حملے میں مارا گیا ہے۔

یمن کے اس سکیورٹی عہدے دار نے اس مبینہ پاکستانی بم ساز کا جو نام بتایا ہے، وہ پاکستان میں یا جنگجوؤں کے حلقے میں بالکل غیرمعروف ہے اور یہ ممکنہ طور پر کسی جنگجو کا عرفی نام ہوسکتا ہے کیونکہ پاکستان میں ولدیت کے ساتھ یعنی ''بن'' والے نام رکھنے کا رواج عام نہیں ہے۔

یمن میں امریکا کے خفیہ ادارے سی آئی اے نے حالیہ ہفتوں کے دوران بغیر پائلٹ جاسوس طیاروں سے القاعدہ کے مشتبہ جنگجوؤں کے خلاف میزائل حملے تیز کردیے ہیں اور 28جولائی کے بعد یمن میں امریکی ڈرون حملوں میں القاعدہ کے کم سے کم بیس مشتبہ جنگجو مارے جاچکے ہیں۔ان میں بعض سعودی اور دوسرے ممالک کے باشندے بتائے گئے ہیں۔

واضح رہے کہ امریکا نے 2012 ء میں یمن میں ڈرون حملے تیز کردیے تھے اور گذشتہ سال کے دوران امریکی جاسوس طیاروں نے القاعدہ سے وابستہ جنگجوؤں اور ان کے حامیوں کے ٹھکانوں پر تریپن ڈرون حملے کیے تھے۔ اس سے پیشتر 2011ء میں صرف اٹھارہ حملے کیے گئے تھے۔

تاہم یمن نے سرکاری طور پر آج تک یہ بات تسلیم نہیں کی کہ امریکا کے ڈرون طیارے القاعدہ کے مشتبہ ٹھکانوں پر حملے کررہے ہیں جبکہ امریکا یمن میں القاعد کی شاخ کو سب سے زیادہ متحرک اور خطرناک خیال کرتا ہے۔ امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے چند ماہ قبل اپنی ایک رپورٹ میں بتایا تھا کہ امریکا کا مرکزی خفیہ ادارہ سی آئی اے اوباما انتظامیہ سے یمن میں مزید فضائی حملوں کی اجازت طلب کر رہا ہے اور وہ شہریوں کی ہلاکت کے خطرے کے باوجود ڈرون طیاروں سے القاعدہ کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانے پر غور کررہا ہے۔