.

لبنانی شیعہ ملیشیا نے ترک ہوابازوں کے اغوا کی ذمہ داری قبول کر لی

انقرہ نے لبنان میں ترک شہریوں کو ملک چھوڑنے کی ہدایت کر دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی کے دو پائلٹوں کے اغوا کے بعد انقرہ حکام نے اپنے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ لبنان سے نکل جائیں۔ لبنان میں سرگرم شیعہ ملیشیا نے ان پائلٹوں کے اغوا کی ذمہ داری بھی قبول کر لی ہے۔

ترکی کی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا ہے: ’’ہم تجویز کرتے ہیں کہ وہ شہری جو ابھی تک لبنان میں موجود ہیں، اگر وہ ترکی واپس آ سکتے ہیں تو آ جائیں، اور اگر انہیں مزید قیام کی ضرورت ہے تو وہ اپنی حفاظت کو یقینی بنائیں۔‘‘

ترکش ایئرویز کے عملے کے دیگر افراد کو بیروت میں ترکی کے سفارت خانے پہنچا دیا گیا تھا۔ وزارت خارجہ کا کہنا تھا کہ انہیں ترکی واپس لانے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ حکام لبنان کی حکومت اور سکیورٹی حکام سے رابطے میں ہیں تاکہ لبنان میں موجود ترک شہریوں اور مغوی پائلٹوں کی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے۔

مسلح حملہ آوروں نے بیروت ایئرپورٹ کے قریب ترکش ایئرویز کی بس سے پائلٹوں کو اغوا کر لیا تھا۔ اس واقعے کے بعد لبنان اور ترکی کے درمیان کشیدگی پیدا ہو گئی ہے۔ لبنان کے سرکاری خبر رساں ادارے 'نیشنل نیوز ایجنسی' نے جمعہ کو بتایا کہ امام علی الرضا نامی ایک گروپ نے ترک پائلٹوں کے اغوا کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

اس گروپ کا کہنا ہے: ’’ہم اعلان کرتے ہیں کہ ترک کیپٹن مراد آكبپنار اور معاون پائلٹ مراد آغا ہمارے مہمان ہیں جب تک عزاز میں اغوا کیے گئے ہمارے بھائیوں کو رہا نہیں کر دیا جاتا۔‘‘ اس بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ترک حکومت نو لبنانی شہریوں کے گزشتہ برس کے اغوا میں ملوث ہے۔

اس گروپ کا بیان سامنے آنے سے قبل ہی یہ قیاس آرائیاں کی جا رہی تھیں کہ ترک پائلٹوں کے اغوا کا تعلق عزاز کے واقعے سے ہو سکتا ہے۔ گزشتہ برس مئی میں ترکی کے سرحد کے ساتھ شام کے اس علاقے سے 11 شیعہ افراد کو اغوا کیا گیا تھا، جن میں سے دو کو بعدازاں رہا کر دیا گیا تھا۔

اِن مغویوں کے خاندان کے افراد انقرہ حکومت پر زور دیتے رہے ہیں کہ وہ ان کے عزیزوں کی رہائی کے لیے اپنا اثر و رسوخ استعمال کرے۔ ان خاندانوں کے ایک ترجمان نے ایک غیر ملکی خبر رساں ادارے سے بات چیت میں کہا ہے کہ ترک پائلٹوں کے اغوا سے ان کا کوئی تعلق نہیں ہے۔