.

مصری جانوں کے مزید ضیاع سے بچیں: بین کی مون کا مشورہ

مصری قیادت اپنی ذمے داریوں کا عملی مظاہرہ کرے اور خونریزی کو روکے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بین کی مون نے مصر کے متحارب سیاسی دھڑوں پر زوردیا ہے کہ وہ ملک میں مزید خونریزی سے بچیں۔

بین کی مون کے ترجمان کی جانب سے عیدالفطر کے موقع پر جمعہ کو جاری کردہ ایک بیان میں مصری قیادت پر زوردیا گیا ہے کہ ''وہ اپنے ذمے داریوں کا عملی مظاہرہ کرے اور انسانی جانوں کے ضیاع کو روکنے کے لیے ہر ممکن اقدام کرے''۔

بیان میں بین کی مون نے مصر میں جاری سیاسی بحران پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے اور مصر کے تمام فریقوں ۔۔۔۔۔ حکام اور سڑکوں پر احتجاج کرنے والے مظاہرین ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پر زوردیا ہے کہ وہ اپنے موجودہ افعال اور زبان پر نظرثانی کریں اور ایسی کسی بھی حرکت اور الفاظ کے استعمال سے گریز کریں جس کو دوسرے اشتعال انگیز خیال کریں۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے مصر کے تمام دھڑوں پر زوردیا ہے کہ وہ مفاہمت پر مبنی بات چیت کا عمل شروع کریں جس میں تمام فریق شریک ہوں۔ انھوں نے مصری عوام کی تبدیلی کے لیے جنوری 2011ء سے جاری پُرامن جدوجہد کو سراہا اور اس اعتماد کا اظہار کیا کہ دنیا کی عظیم تہذیبوں میں سے ایک کے امین ہونے کے ناتے مصری عوام آگے بڑھنے کا راستہ تلاش کرلیں گے۔

برطرف صدر محمد مرسی کے ہزاروں حامیوں نے گذشتہ روز ملک بھر میں مسلح افواج کے اقدام کے خلاف احتجاجی مظاہرے کیے تھے اور ڈاکٹر مرسی کی بحالی کا مطالبہ کیا تھا۔ اس سے ایک روز پہلے ہی مصر کے عبوری وزیراعظم حازم الببلاوی نے اعلان کیا تھا کہ قاہرہ مِیں مرسی نوازوں کے دھرنوں کو ختم کرانے کا حتمی فیصلہ کر لیا گیا ہے۔

انھوں نے مظاہرین پر زوردیا کہ وہ دھرنے ختم کرکے گھروں کو لوٹ جائیں۔ انھوں نے قاہرہ کے رابعہ العدویہ اسکوائر اور النہضہ اسکوائر میں رضا کارانہ طور پر دھرنے ختم کرنے والوں کو حکومت کی جانب سے مفت ٹرانسپورٹ کی پیش کش کی لیکن برطرف صدر کے حامیوں نے ان کی اس پیش کش کو ٹھکرا دیا ہے اور ان کا بدستور احتجاج جاری ہے۔