.

مصر: اخوان المسلمون کے دھرنا پروگرام کو بجلی کی فراہمی معطل

فیصلہ کن کارروائی کو تین ماہ تک بتدریج مکمل کرنے کا فیصلہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

قاہرہ سے 'العربیہ' کی نامہ نگار نے اپنے مراسلے میں بتایا ہے کہ معزول صدر محمد مرسی کے دارلحکومت کے علاقے رابعہ العدویہ کو بجلی کی فراہمی بند کر دی گئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس اقدام کے بعد احتجاجی دھرنا دینے والوں میں صور پھونکنے جیسی کیفیت دیکھی جا سکتی ہے۔

نامہ نگار نے بتایا کہ رابعہ العدویہ احتجاجی دھرنا سکوائر کو بجلی فراہمی منقطع ہونے کے باوجود سیکیورٹی اہلکار علاقے سے کافی دور ہیں۔ اخوان المسلمون کی دھرنا انتظامیہ نے سکوائر کو بجلی فراہم کے بعد کمپاؤنڈ میں جنریٹرز کے ذریعے بجلی فراہمی کا انتظام کر لیا ہے۔ سٹیج سے دھرنا دینے والوں کو پولیس کے اچانک حملوں کے بارے میں وقتا فوقتا اعلانات کے ذریعے خبردار کیا جا رہا ہے۔

مصری اخبارات میں قاہرہ کے رابعہ العدویہ اور النہضہ سکوائر میں جاری دھرنوں کو منشتر کرنے کے منصوبوں کے خدوخال شائع ہو رہے ہیں جن میں بتایا گیا ہے کہ حکومت دھرنا منتشر پلان کو بتدریج عمل میں لانا چاہتی ہے تاکہ مظاہرین کو کم سے کم نقصان پہنچے۔ نیز تدریجی ایکشن کا مقصد پولیس اور قانون نافذ کرنے والوں کو بھی دھرنا دینے والوں کے ردعمل سے بچانا ہے۔

تدریجی منصوبے کے تحت رابعہ العدویہ سکوائر میں دھرنا پروگرام خاتمے کو مرحلہ وار مکمل کیا جائے گا۔ پہلے مرحلے میں سکوائر میں داخلے اور باہر نکلنے کے راستے بند کئے جائیں گے، پھر دھرنا دینے والوں کو خوراک اور پانی کی سپلائی منقطع کی جائے گی۔ نیز ایک بڑے اقدام اور آپشن کے طور پر مظاہرین کے خلاف پانی کی توپیں اور دوسرے ضروری وسائل استعمال کی جائیں گے۔

دھرنا ختم کرنے کا پلان کئی دنوں، ہفتوں بلکہ تین ماہ تک جاری رہ سکتا ہے۔ دھرنا منشتر کرنے کے یہ منصوبے ان سیکیورٹی رپورٹس کے بعد بنائے گئے ہیں کہ جن میں بتایا گیا تھا کہ رابعہ العدویہ دھرنا سکوائر میں امن و امان کی صورتحال مخدوش ہوتی جا رہی ہے کیونکہ دھرنا سکوائر میں اخوان المسلمون کے رہنماؤں کی تقاریر میں بوریت کا عنصر نمایاں ہونے لگا تھا بالخصوص معزول صدر محمد مرسی کی جلد ایوان اقتدار میں واپسی کے وعدے وفا نہ ہونے سے مظاہرین متذبذب ہیں۔