.

دھرنا اکھاڑا گیا تو مظاہرین کا مرکز تحریر چوک ہو گا:اخوان المسلمون

پانی بجلی اور کھانا بند کرنے کا جواب تحریر چوک پر دیا جائے گا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کے معزول صدر ڈاکٹر مرسی کے حامیوں اور اخوان المسلمون کے احتجاجی مظاہرین نے عبوری حکومت کی طرف سے رابعہ العدویہ میں جاری ایک ماہ سے طویل دھرنے کو اکھاڑ پھینکنے کے اعلان پر جوابی دھمکی دی ہے کہ طاقت استعمال کی گئی تو مظاہرین تحریر چوک پہنچ جائیں گے۔ واضح رہے رواں ماہ کے آغاز میں عبوری حکومت نے دھرنے کے شرکاء کو منتشر ہونے کے لیے کہا تھا، جبکہ اتوار کی صبح سے حکومت نے دھرنا ختم کرانے کے لیے عملی اقدامات بھی شروع کر دیے ہیں۔


'' العربیہ'' کے نمائندہ کےمطابق مرسی کے حامی 3 جولائی سے اس وقت رابعہ العدویہ میں دھرنا شروع کیا تھا جب تحریر چوک پر اپوزیشن مسلسل لاکھوں مظاہرین کو جمع کیے ہوئے تھی اور جنرل عبدالفتاح السیسی نے منتخب حکومت ختم کر کے عبوری حکومت کے لیے راستہ ہموار کیا تھا۔

اہم سرکاری ذریعے نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر "العربیہ" کو بتایا کہ ڈاکٹر مرسی کے حامیوں کے طویل دھرنے کے خاتمے کے لیے اعلی حکومتی عہدیدار کئی اجلاس منعقد کر چکے ہیں جن میں دھرنا ختم کرنے کی حکمت عملی ترتیب دی گئی ہے۔ اس اہم ذریعے کے مطابق دھرنا ختم کرنے کے دوران مرسی کے تین سے پانچ ہزارحامیوں کے مارے جانے کا اندیشہ ہے۔ جس سے خدشہ ہے کہ حکومت کے لیے مشکل صورت حال پیدا ہو جائے گی۔ اس لیے بہتر متبادل حکمت عملی کے طور پر شرکائے دھرنا کا پانی بند کیا جائے گا اور کھانے کی اشیا پہنچنے کے راستے مسدود کر دیے جائیں گے۔ خیال رہے اتوار کے روز بجلی کی بندش بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے۔

"العربیہ" کی اطلاعات کے مطابق اخوان کے احتجاج کرنے والے مظاہرین نے اس صورت حال کے پیش نظر تحریر چوک کو اپنے احتجاج کا مرکز بنانے کی تیاری شروع کردی ہے، تاکہ تحریر چوک کو بلاک کیا جائے۔