.

اسرائیل 26 فلسطینی قیدی رہا کرنے پر راضی، ناموں کی فہرست تیار

فلسطینی قیدیوں کو امن مذاکرات کے دوبارہ آغاز کے بعد رہائی ملے گی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیل نے اعلان کیا ہے کہ وہ اگلے چند روز میں مزید 26 فلسطینی قیدی رہا کر دے گا۔ یہ فیصلہ اسرائیل اور فلسطینی انتظامیہ کے درمیان بحال ہونے والے براہ راست مذاکرات کے تناظر میں کیا گیا ہے۔

امریکی ثالثی میں فریقین کے درمیان امن مذاکرات کے دوبارہ آغاز کے سلسلے میں طے پانے والی شرائط میں قیدیوں کی رہائی کا معاملہ بھی شامل ہے۔ اس طرح پہلے مرحلے میں اسرائیلی جیلوں سے رہائی پانے والی فلسطینی قیدیوں کے نام طے کر لیے گئے ہیں۔

اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کی کابینہ کے سینئر ارکان اور سکیورٹی عہدیداروں کے ایک پینل نے گذشتہ روز رہائی پانے والے فلسطینی قیدیوں کے ناموں پر اتفاق کر لیا ہے۔ خبر رساں ادارے رائیٹرز کے مطابق یہ فہرست آج پیر کے روز شائع کی جا رہی ہے۔

سکیورٹی عہدیداروں کے اس پینل کی سربراہی اسرائیلی وزیر دفاع موشے یعالون کر رہے ہیں۔ وزیراعظم نیتن یاہو کے دفتر سے جاری ہونے والے ایک بیان کے مطابق یالون نے رہائی پانے والےان 26 قیدیوں کے ناموں کی منظوری دے دی ہے۔ بتایا گیا ہے کہ ان میں سے 14 کو غزہ کی پٹی اور 12 کو مغربی کنارے میں بھیج دیا جائے گا۔ گذشتہ ماہ اسرائیل نے فلسیطنی انتظامیہ کے ساتھ 104 قیدیوں کی رہائی پر رضا مندی ظاہر کی تھی، جنہیں چار مرحلوں میں رہا کیا جائے گا۔

امریکی وزیرخارجہ جان کیری کی سفارتی کوششوں کے بعد فریقین براہ راست امن مذاکرات پر رضامند ہوئے ہیں۔ تاہم نیتن یاہو کی حکومت میں شامل انتہائی دائیں بازو کے ارکان نے ان قیدیوں کی رہائی پر ناراضی کا اظہار کیا ہے۔ ان افراد کا کہنا ہے کہ ان افراد کے ’ہاتھ خون سے رنگے‘ ہوئے ہیں۔ کابینہ نے ان قیدیوں کی رہائی کے حوالے سے کہا ہے کہ انہیں 48 گھنٹوں تک رہا نہیں کیا جائے گا، تاکہ ان افراد کے جرائم سے متاثر ہونے والے خاندان ہائی کورٹ میں اپیل دائر کر سکیں۔

ادھر ان قیدیوں کی رہائی پر اعتراض کرنے والے انتہائی دائیں بازو کے سیاستدانوں کی خوشنودی کے لیے نیتن یاہو حکومت نے مغربی کنارے اور مشرقی یروشلم کے مقبوضہ علاقوں میں مزید 12 سو مکانات کی تعمیر کا اعلان کیا ہے۔ ان مکانات کی تعمیر پر فلسطینی انتظامیہ نے شدید اعتراض کیا ہے، تاہم اس کی جانب سے مذاکرات کو معطل یا منسوخ کرنے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ فلسطینی انتظامیہ اور اسرائیل کے درمیان پہلے مرحلے کے مذاکرات واشنگٹن میں ہوئے تھے اور اس سلسلے میں دوسرے مرحلے کے مذاکرات بدھ کے روز مقبوضہ بیت المقدس میں ہونا ہیں۔