.

ایرانی پارلیمان میں نئی کابینہ میں شامل ناموں پر بحث

نئی حکومت کی ترجیح ملکی معیشت کو سنبھالا دینا ہے:حسن روحانی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی پارلیمان میں نئے صدر حسن روحانی کی مجوزہ اٹھارہ ارکان پر مشتمل کابینہ پر بحث شروع ہوگئی ہے اور اس کے بعد اسی ہفتے اس کابینہ پر رائے شماری ہوگی۔

حسن روحانی نے سوموار کو پارلیمان میں کابینہ پر بحث کے آغاز سے قبل کہا کہ ان کی اولین ترجیح ملکی معیشت کو سنبھالا دینا ہے۔اس کے علاوہ وہ جوہری پروگرام کے تنازعے سے جاری بحران کو ختم کرنے کی کوشش کریں گے تاکہ ملک پر عاید مغربی پابندیوں کا خاتمہ ہوسکے۔

انھوں نے کہا کہ ''ہم سب جانتے ہیں، ہمارا ملک سماجی اور اقتصادی طور پر مشکلات سے دوچار ہے اور بین الاقوامی پابندیوں نے ان مشکلات کو دوچند کردیا ہے''۔ انھوں نے ایران پر پابندیوں کے لیے آزمائے جانے والے مغربی حربوں کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ ان ممالک نے ایران پر جوہری پروگرام کے تنازعے پر دباؤ ڈالنے کے لیے معاشرے کی ضروریات کو یرغمال بنا لیا ہے۔

حسن روحانی نے 4 اگست کو ٹیکنوکریٹس پر مشتمل اپنی کابینہ کا اعلان کیا تھا۔ اس میں تمام مرد شامل ہیں اور پہلے مرحلے میں کسی خاتون کو کابینہ میں شامل نہیں کیا گیا ہے۔ کابینہ کی قدامت پرستوں کی بالادستی کی حامل پارلیمان سے منظوری ضروری ہے۔

ایرانی پارلیمان میں کابینہ پر بحث اور رائے شماری کا طریق کار یہ ہے کہ پہلے نیا صدر اپنا پروگرام پیش کرتا ہے۔اس کے بعد اپنے منتخب کردہ وزراء کا دفاع کرتا ہے۔پھر پانچ ارکان پارلیمان نئی حکومت کا دفاع کرتے اور پانچ اس کی مخالفت کرتے ہیں۔ اس طرح یہ بحث مکمل ہونے کے بعد آیندہ بدھ کو باری باری کابینہ میں شامل وزراء کی ایک ایک کر کے منظوری دی جائے گی یا انھیں مسترد کردیا جائے گا۔

قدامت پرستوں کی جانب سے صدر روحانی کے منتخب کردہ وزراء پر پہلے ہی تنقید شروع ہوچکی ہے۔خاص طور پر تعلیم، سائنس، جامعات، مکانات اور تیل کے وزراء پر 2009ء میں منعقدہ صدارتی انتخابات کے نتائج کے خلاف احتجاجی مظاہروں میں کردار پر تنقید کی جارہی ہے۔

ان وزارتوں کے قلم دان جن چار وزراء کو سونپے جارہے ہیں، وہ 2009ء میں اصلاح پسند امیدوار میر حسین موسوی کی انتخابی مہم کے ارکان رہے تھے اور انھوں نے سبکدوش صدر محمود احمدی نژاد کی اس وقت متنازعہ کامیابی کے خلاف احتجاجی مظاہروں کو منظم کرنے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔