.

بیروت میں دو پائیلٹوں کے اغوا کے بعد ترک مراکز کی بندش

اغوا کار گروپ کا ترکی سے شام میں یرغمال لبنانی زائرین کی بازیابی کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لبنان کے دارالحکومت بیروت میں ترکش ائیرلائنز کے دو پائیلٹوں کے اغوا کے بعد ترکی نے اپنا ثقافتی مرکز اور تجارتی دفتر بند کردیا ہے۔

بیروت میں ترک سفیر عنان اویلدیز نے سوموار کو ایک بیان میں کہا ہے کہ ''ترکی کے ثقافتی مرکز اور تجارتی دفتر نے حفظ ماتقدم کے طور پر اپنی ثقافتی سرگرمیاں معطل کردی ہیں''۔

انھوں نے کہا کہ ترکش ائیرلائنز کا عملہ بیروت میں واقع اپنے دفتر کے بجائے اب بین الاقوامی ہوائی اڈے پر کام کر رہا ہے۔ سفیر نے لبنانی دارالحکومت میں ترک مفادات کے تحفظ کے لیے سکیورٹی سروسز کے اقدامات کا خیر مقدم کیا ہے۔

ترکی کے دو پائیلٹوں کو لبنان کے ایک گروپ نے گذشتہ جمعہ کو اغوا کر لیا تھا اور وہ اب ترکی سے یہ مطالبہ کر رہا ہے کہ وہ شام میں مئی 2012ء میں اغوا کیے گئے نو لبنانی شیعوں کی بازیابی کے لیے شامی باغیوں پر اپنا اثرورسوخ استعمال کرے۔

اغوا کے اس واقعہ کے بعد ترکی کی وزارت خارجہ نے شہریوں کو ہدایت کی تھی کہ وہ لبنان کے سفر سے گریز کریں اور اگر وہ وہاں گئے ہیں تو فوراً واپس آجائیں۔

لبنان کے ایک غیر معروف گروپ زوار امام الرضا نے دونوں ترک پائیلٹوں کے اغوا کی ذمے داری قبول کی ہے اور کہا ہے کہ ترکی شام میں نو لبنانیوں کے لاپتا ہونے کا براہ راست ذمے دار ہے۔

لیکن ترک سفیر نے اپنے ملک کے اس موقف کا اعادہ کیا کہ اس کا شام کے شمالی علاقے اعزاز میں گذشتہ سال لبنانی شیعہ زائرین کے اغوا کے واقعہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

ان لبنانی زائرین کو ایران سے بذریعہ بس واپس وطن آتے ہوئے شامی علاقے سے اغوا کرلیا گیا تھا۔ان کے خاندان متعدد مرتبہ ان کی بازیابی کا مطالبہ کرچکے ہیں اور انھوں نے ترکی پر الزام عاید کیا ہے کہ وہ ان کی رہائی کے لیے کچھ نہیں کررہا ہے۔

ترکی کی قومی فضائی کمپنی کے دونوں پائیلٹوں کو بیروت کے شیعہ آبادی والے علاقے سے اغوا کیا گیا تھا۔اس علاقے پر طاقتور شیعہ ملیشیا حزب اللہ کا کنٹرول ہے جو صدر بشارالاسد کی دامے ،درمے ،سخنے امداد کررہی ہے اور اس نے مبینہ طور پر اپنے ہزاروں جنگجو شام میں باغیوں کے خلاف لڑائی کے لیے بھیجے ہیں۔حزب اللہ کے ناقدین کا کہنا ہے کہ وہ ترک ہوابازوں کے اغوا کے واقعہ کو چھپانے کی کوشش کررہی ہے اور دراصل اس واقعہ میں اسی کا ہاتھ کارفرما ہے۔