.

جیش الحر کے سربراہ کا صدر بشارالاسد کے آبائی صوبے اللذاقیہ کا دورہ

باغی جنگجوؤں نے ساحلی صوبے کے 11 دیہات کا کنٹرول سنبھال لیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شامی باغیوں اور جنگجوؤں پر مشتمل جیش الحر کے سربراہ جنرل سلیم ادریس نے صدر بشارالاسد کے آبائی صوبے اللاذقیہ کا دورہ کیا ہے۔

اس ساحلی صوبے میں باغی جنگجوؤں اور شامی فوج کے درمیان لڑائی جاری ہے۔ اللاذقیہ سے تعلق رکھنے والے ایک کارکن عمرالجبلاوی نے انٹرنیٹ کے ذریعے بتایا ہے کہ جنرل سلیم ادریس اتوار کو صوبے میں جبل الاکراد کے علاقے کفر دلبا میں پہنچے تھے۔

انٹرنیٹ پر پوسٹ کی گئی ویڈیو میں جنرل ادریس سادہ کپڑوں میں ملبوس ہیں۔ وہ باغی جنگجوؤں سے مخاطب ہیں اور کہہ رہے کہ ''وہ اللاذقیہ میں اپنے انقلابی بھائیوں کی اہم کامیابیوں کو ملاحظہ کرنے کے لیے آئے ہیں''۔

انھوں نے کہا کہ ''ہم یہاں ہرکسی کو یہ یقین دہانی کرانے کے لیے آئے ہیں کہ جیش الحر کی جنرل کمان ساحلی محاذ کے لیڈروں کے ساتھ مکمل رابطے میں ہے اور اس کے ساتھ مل کر کام جاری رکھیں گے''۔

عمرالجبلاوی نے بتایا کہ''ترکی میں مقیم جیش الحر کی قیادت نے اللاذقیہ میں باغی جنگجوؤں کو ہتھیار مہیا کیے ہیں لیکن وہ کافی نہیں ہیں''۔ جنرل سلیم ادریس کے دورے سے ایک ہفتہ قبل باغی جنگجوؤں نے ساحلی علاقے کو آزاد کرانے کے لیے شامی فوج کے خلاف کارروائی شروع کی تھی۔لندن میں قائم شامی آبزرویٹری برائے انسانی حقوق کی اطلاع کے مطابق اس کے بعد سے باغی جنگجوؤں نے علویوں کی اکثریتی آبادی والے گیارہ دیہات کو ''آزاد'' کرا لیا ہے۔

واضح رہے کہ اس علاقے میں اہل سنت اور صدر بشارالاسد کے علوی فرقے کے پیروکاروں کی مخلوط آبادی مقیم ہے۔ اس لیے یہ بڑی حساسیت کا حامل علاقہ ہے۔ باغی جنگجو اللاذقیہ میں سرکاری فوج کے مقابلے میں کوئی نمایاں پیش قدمی تو نہیں کرسکے ہیں لیکن اس کے باوجود ان کی حالیہ کامیابیاں ان کا مورال بلند کرنے کے لیے اہمیت کی حامل ہیں کیونکہ انھیں شام کے وسطی صوبے حمص اور دوسرے علاقوں مِیں ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا ہے۔