.

برطرف صدر محمد مرسی کی حراستی مدت میں 15 دن کی توسیع

دھرنا دینے والے جمہوریت پسندوں کی پولیس کارروائی سے بچنے کے لیے احتیاطی تدابیر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کی ایک عدالت نے برطرف صدر محمد مرسی کی حراستی مدت میں پندرہ دن کی توسیع کردی ہے۔ان کے خلاف فلسطینی تنظیم حماس کے ساتھ مل کر جیل توڑنے کے الزام کی تحقیقات کی جارہی ہے۔

مصر کی مسلح افواج نے 3 جولائی کو منتخب صدر محمد مرسی کو برطرف کرکے کسی نامعلوم مقام پر نظربند کردیا تھا۔انھیں 26جولائی کو مصر کے عدالتی حکام نے پہلی مرتبہ باضابطہ طور پر زیر حراست قرار دیا تھا۔

برطرف صدر کے خلاف مصری عدلیہ کو اور تو کوئی الزام یا ثبوت نہیں ملا اور اب ان پر 2011ء کے اوائل میں سابق صدر حسنی مبارک کے خلاف عوامی مزاحمتی تحریک کے دوران دارالحکومت قاہرہ کے مغرب میں واقع وادی النطرون جیل کو توڑنے کے الزام میں مقدمہ چلایا جارہا ہے۔

قاہرہ کی عدالت ڈاکٹر مرسی کے خلاف حماس اور دوسرے جنگجو گروپوں کے ساتھ مل کر اس جیل کو توڑنے کے واقعہ کی تحقیقات کررہی ہے۔ان کے علاوہ اخوان المسلمون کے تینتیس کارکنان کے خلاف بھی اس جیل کو توڑنے کے الزام میں مقدمہ چلایا جارہا ہے۔

23 جون کو اس عدالت نے کہا تھا کہ حماس کے جنگجوؤں نے حسنی مبارک کے خلاف اٹھارہ روزہ عوامی مزاحمتی تحریک کے دوران وادی النطرون جیل کو توڑنے اور وہاں سے سیکڑوں قیدیوں کے فرار میں مدد دی تھی۔

درایں اثناء قاہرہ میں ڈاکٹر مرسی کے حامیوں نے اپنے دھرنوں کی دونوں جگہوں کے گرد حصار کو مزید مضبوط بنا لیا ہے اور سکیورٹی فورسز کی کسی کارروائی سے بچنے کے لیے احتیاطی تدابیر اختیار کر لی ہیں۔اس سے پہلے مصری سکیورٹی حکام نے احتجاجی کیمپوں کو اکھاڑنے اور وہاں دھرنا دینے والوں کو زبردستی اٹھانے کی دھمکی دی تھی۔

قاہرہ میں جامع مسجد رابعہ العدویہ کے باہر مرسی نوازوں نے سکیورٹی فورسز کی بکتربند گاڑیوں کے داخلے کو روکنے کے لیے کنکریٹ کی رکاوٹیں کھڑی کردی ہیں اور انھوں نے سیکڑوں گیس ماسک اور دستانے خرید کیے ہیں تاکہ پولیس کی جانب سے فائر کی جانے والی اشک آور گیس کے مضر اثرات سے بچا جاسکے۔

اخوان المسلمون اور دوسری اسلامی جماعتوں کے ہزاروں کارکنان ڈاکٹر مرسی کی برطرفی کے خلاف احتجاجی مظاہرے کررہے ہیں اور انھوں نے رابعہ العدویہ اسکوائر کے علاوہ النہضہ اسکوائر میں بھی گذشتہ سوا ماہ سے دھرنا دے رکھا ہے۔انھوں نے آج اعلیٰ دستوری عدالت کے باہر احتجاجی مظاہرہ کیا اور مصر کے پراسیکیوٹر جنرل سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا ہے۔