.

اللذاقیہ میں علویوں سے نہیں، شامی فوج سے لڑائی ہو رہی ہے: سربراہ جیش الحر

علویوں کو سکیورٹی اور تحفظ مہیا کریں گے: جنرل سلیم ادریس کی 'العربیہ' سے گفتگو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کے باغی جنگجوؤں اور منحرف فوجیوں پر مشتمل جیش الحر(ایف ایس اے) کی فوجی کمان کے سربراہ جنرل سلیم ادریس نے کہا ہے کہ ساحلی صوبے اللذاقیہ میں ان کے جنگجو علوی شہریوں نہیں بلکہ شامی فوج کے خلاف لڑرہے ہیں۔

انھوں نے العربیہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ''ساحلی علاقے میں کسی فرقے سے تعلق رکھنے والے کسی شہری کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہورہی ہے بلکہ ایف ایس اے علویوں کو سکیورٹی اور تحفظ مہیا کرے گا''۔

جنرل سلیم ادریس نے اتوار کوصدر بشارالاسد کے آبائی صوبے اللاذقیہ کا دورہ کیا ہے۔ان کے دورے سے ایک ہفتہ قبل باغی جنگجوؤں نے ساحلی علاقے کو آزاد کرانے کے لیے شامی فوج کے خلاف کارروائی شروع کی تھی۔لندن میں قائم شامی آبزرویٹری برائے انسانی حقوق کی اطلاع کے مطابق اس کے بعد سے باغی جنگجوؤں نے علویوں کی اکثریتی آبادی والے گیارہ دیہات کو ''آزاد'' کرالیا ہے۔

واضح رہے کہ اس علاقے میں اہل سنت اور صدر بشارالاسد کے علوی فرقے کے پیروکاروں کی مخلوط آبادی مقیم ہے۔ اس لیے یہ بڑی حساسیت کا حامل علاقہ ہے۔ باغی جنگجو اللاذقیہ میں سرکاری فوج کے مقابلے میں کوئی نمایاں پیش قدمی تو نہیں کرسکے ہیں لیکن اس کے باوجود ان کی حالیہ کامیابیاں ان کا مورال بلند کرنے کے لیے اہمیت کی حامل ہیں کیونکہ انھیں شام کے وسطی صوبے حمص اور دوسرے علاقوں مِیں ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

جیش الحر نے سوموار کو اللذاقیہ کے بعد صوبہ حماہ میں دوبارہ شامی فوج کے خلاف کارروائیاں شروع کردی ہیں اور شمالی شہر حلب کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کے نزدیک شامی فوج کے ایک ٹھکانے پر گولہ باری کی ہے۔درایں اثناء حلب کے علاقے الجمجما میں شامی فوج نے سترہ افراد کو ہلاک کردیا ہے اور مشرقی شہر دیرالزور میں بعض علاقوں پر فضائی حملے کیے ہیں۔