.

تصادم سے بچاٶ کی خاطر اخوانی دھرنوں کے محاصرے کی تجویز

سیکیورٹی کونسل کا کئی گھنٹے طویل اجلاس بغیر نتیجے کے ختم ہو گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصری حکام معزول صدر محمد مرسی کے حامیوں کی جانب سے قاہرہ کے النہضہ سکوائر اور رابعہ العدویہ میں گذشتہ ایک ماہ سے جاری دھرنے ختم کرانے کے طریقوں پر غور کر رہے ہیں۔ دھرنا ختم کرانے کے لئے احتجاجی مظاہرین کا محاصرہ کرنے کی تجاویز بھی سامنے آئی ہیں۔ ادھر مصر کی قومی سلامتی کونسل کا گذشتہ رات گئے اہم اجلاس ختم ہوا، جس میں عبوری صدر عدلی منصور، ان کے نائب محمد البرادعی، عبوری وزیر اعظم حازم البیلاوی، وزیر دفاع عبدالفتاح السیسی اور وزیر داخلہ محمد ابراہیم نے شرکت کی۔

اجلاس کی اندرونی کارروائی سے باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ کئی گھنٹے جاری رہنے والے اس اجلاس میں مصری قیادت نے مرسی نواز احتجاجی مظاہرین کے دھرنوں کو ختم کرنے سے متعلق متعدد تجاویز پر تبادلہ خیال کیا۔ عبوری حکمران ان دھرنوں کے خلاف کوئی ایسا حتمی اقدام کرنے سے گریزاں ہیں کہ جس کا نتیجہ بدامنی اور جانی نقصان کی صورت نکلے۔

یاد رہے کہ تین جولائی کو صدر مرسی کی فوج کے ہاتھوں معزولی کے بعد سے لیکر ابتک اخوان المسلمون اور ان کی حامی اسلامی جماعتیں دھرنوں کی صورت میں 'فوجی بغاوت' کے خلاف احتجاج جاری رکھے ہوئے ہیں۔ صدر مرسی کی برخاستگی کے بعد سے مصر میں سیکیورٹی کی صورتحال عدم استحکام کا شکار ہے۔ بیرونی دنیا اور ملک کے اندر سے اس بحران کے حل کی تمام کوششیں ناکام چلی آ رہی ہیں۔

اخوان المسلمون اندرون ملک سے جامعہ الازہر کی ثالثی کو یہ کہتے ہوئے مسترد کر چکی ہے کہ شیخ الازہر اس سیاسی لڑائی میں فریق بنے ہوئے ہیں، اس لئے ان کی غیر جانبداری پر بھروسہ نہیں کیا جا سکتا۔