.

قاہرہ میں برطرف صدر مرسی کے حامیوں اور مخالفین میں جھڑپیں

حکومت نوازوں کا وزارت داخلہ کی جانب مارچ کرنے والے مظاہرین پر پتھراؤ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں برطرف صدر محمد مرسی کے حامیوں پر وزارت داخلہ کی جانب مارچ کے دوران حکومت نوازوں نے حملہ کیا ہے جس کے بعد فریقین کے درمیان جھڑپیں شروع ہوگئی ہیں۔

مصر کی نئی عبوری حکومت کے حامیوں نے بالکونیوں سے ڈاکٹر مرسی کے حامیوں پر پتھراؤ کیا اور ان پر بوتلیں پھینکی ہیں۔ اس کے بعد پولیس نے بھی ان کا ساتھ دیتے ہوئے مظاہرین پر اشک آور گیس کے گولے پھینکنے شروع کردیے۔

برطرف صدر کے حق میں نکالے گئے احتجاجی جلوس میں ان کے ہزاروں حامی شریک تھے لیکن مسلح افواج اور ان کی قیادت میں قائم عبوری حکومت کے حامیوں نے انھیں دہشت گرد قرار دیا اور پھر ان پر پتھراؤ شروع کردیا۔ اس کے جواب میں مرسی نوازوں نے بھی پتھراؤ کیا ہے۔

مرسی نوازوں پر حکومت کے حامیوں کے حملے کے بعد مارچ میں شریک خواتین اور بچوں میں افراتفری پھیل گئی اور وہ جانیں بچانے کے لیے ادھر ادھر بھاگنا شروع ہوگئے۔ واضح رہے کہ 3 جولائی کو منتخب صدر مرسی کی برطرفی کے خلاف احتجاج کرنے والے ان کے حامیوں پر اس سے پہلے بھی حکومت نوازوں کی جانب سے حملے کیے جاچکے ہیں۔