.

اسرائیل نے 'امن کی خاطر' 26 فلسطینی قیدی رہا کر دیئے

رہائی پانے والے اسیران کا شاندار استقبال، اسرائیلی ناراض

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیل نے معطل امن مذاکرات کے دوبارہ آغاز کے لئے طے پائے سمجھوتے کے تحت 104 میں سے 26 فلسطینی قیدیوں کو رہا کر دیا ہے۔ اسرائیل کی طرف سے یہ اقدام طویل تعطل کے بعد آج پھر سے شروع ہونے والے امن مذاکرات کے دن کے آغاز سے کچھ ہی دیر پہلے کرتے ہوئے سالہا سال اسرائیلی جیلوں میں گزارنے والوں کو رہا کیا ہے۔

سن 1967ء میں اسرائیل کی جانب سے مغربی کنارے، غزہ اور مشرقی یروشلم پر قبضے کے بعد سے اسرائیل کی جیلوں میں سیکڑوں فلسطینی قید ہیں جنہیں پتھراؤ کرنے سے لے کر قتل سمیت مختلف سنگین جرائم کے الزامات کا سامنا ہے۔

قیدیوں کو رہا کرنے کے معاملے پر اسرائیلی عوام خصوصاً حملوں میں ہلاک ہونے والوں کے ورثا میں شدید غم و غصے کا اظہار کیا ہے۔

دوسری جانب فلسطین میں ان افراد کی رہائی کے سلسلے میں باقاعدہ جشن کا اہتمام کیا گیا، جہاں ان افراد کو ان کے عمل سے قطعہ نظر قومی ہیرو تصور کیا جاتا ہے اور فلسطینی عوام کا کہنا ہے کہ ان لوگوں نے آزادی کی جنگ میں اپنی زندگی کے قیمتی سالوں کی قربانی دی۔

اسرائیل میں قیدیوں کی سروس کا کہنا ہے کہ منگل کو رات گئے وسطی اسرائیل کی جیل ایالون سے بس قیدیوں کو لے کر روانہ ہوئی۔ اسرائیل نے کسی ہنگامے یا احتجاج سے بچنے کے لیے ان قیدیوں کو رات گئے رہا کیا جہاں کچھ مظاہرین نے جیل سے نکلتے وقت بس کو روکنے کی کوشش بھی کی۔

رہا کیے جانے والے قیدیوں میں قتل کے ملزمان سمیت اغوا برائے تاوان اور دیگر واردارتوں کے ملزمان بھی شامل ہیں۔ ان قیدیوں میں سے زیادہ تر 20 سال قید کی سزا بھگت چکے ہیں جن میں سب سے پرانے قیدی کو 1985ء میں گرفتار کیا گیا تھا۔

اسرائیل کی جانب سے فلسطینی قیدیوں کی رہائی کا اقدام یہودی بستیوں کی تعمیر جاری رکھنے پر اڑے رہنے کے تازہ اعلان کے بعد سامنے آیا ہے۔ اس لیے فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس کو فلسطینیوں کی رہائی کا فائدہ کم ہی ہو گا کہ صرف ان کی سیاسی حریف اسلامی تحریک مزاحمت [حماس] ہی نہیں خود محمود عباس کی اپنی جماعت اور انتظامیہ کے اہم عہدیدار اسرائیل کے یہودی بستیوں کی تعمیر جاری رکھنے کے اعلان پر محمود عباس پر دباو بڑھا رہے ہیں۔

محمود عباس کی جماعت کےرہنما قیس عبدالکریم کے مطابق ''اسرائیل کی جانب سے امن مذاکرات کو یہودی بستیوں کی تعمیر کے لیے آڑ کے طور پر استعمال کرنے کی کوشش بھی ردعمل کا باعث بن رہا ہے۔'' قیس عبدالکریم کا کہنا ہے کہ ''امن مذاکرات کے بدلے میں چند قیدیوں کی رہائی سستا سودا ہے۔"

یہودی بستیوں کی اسرائیل کی طرف سے تعمیر جاری رکھنے پر مذاکرات کی ٹوٹنے والی ڈوری کو امریکا اپنے وزیر خارجہ جان کیری کی'' شٹل ڈپلومیسی'' کے باعث وہیں سے جوڑنے میں ابتدائی طور کامیاب ہوا ہے۔ اس حوالے سے امریکا مسئلہ فلسطین کے دو ریاستی حل اور 1967 سے پہلے سرحدی تقسیم پر ثالثی کے لیے تیار ہے۔ امریکا نئی یہودی بستیوں کی تعمیر پر بھی تنقید کرتا ہے ۔ تاہم اسرائیل نے اس بارے میں امریکی تنقید بھی مسترد کر دی ہے اور پہلے سے بسائے گئے پانچ لاکھ یہودی آباد کاروں کے ساتھ مزید کو بسانے پر بضد ہے۔

یاد رہے کہ اتوار کو رات گئے اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کے دفتر سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا تھا کہ ایک پینل آئندہ دو روز میں ان افراد کی شناخت جاری کرے گا، فلسطین اور عرب اسرائیل کے 104 قیدیوں کو چار مرحلوں میں رہا کیا جائے گا جس کا دارومدار مذاکرات پر ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ حکومت کی جانب سے فلسطینیوں سے امن مذاکرات اور مذاکرات کے دوران ایک وزارتی سطح کی کمیٹی قائم کر کے قیدیوں کو رہا کرنے کے فیصلے کو مدنظر رکھتے ہوئے کمیٹی نے 26 قیدی رہا کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ اس فہرست میں شامل 14 قیدیوں کو غزہ کی پٹی جبکہ دیگر 12 کو مغربی کنارے پر منتقل کیا جائے گا۔