.

جاذب نظر ایرانی خاتون کونسلر پر پابندی، نااہل قرار

قدامت پرست حکام نے خاتون انجنئیر کے انتخابی پوسٹروں کو خلاف اسلام قرار دے دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے نئے اصلاح پسند صدر حسن روحانی نے اپنی انتخابی مہم کے دوران منجملہ دیگر وعدوں نے یہ بھی کہا تھا کہ ان کے دورحکومت میں خواتین کے شہری حقوق کو بہتر بنایا جائے گا لیکن ان کے برسراقتدار آنے کے چند روز بعد ہی ایک خاتون کونسلر کو جاذب نظر اور پُرکشش ہونے کی بنا پر نااہل قرار دے دیا گیا ہے۔

برطانوی روزنامے ڈیلی ٹائمز میں بدھ کو شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق نینا سیاہکالی مرادی تاریخی شہر قزوین کی سٹی کونسل کی کونسلر منتخب ہوئی تھیں لیکن مذہبی قدامت پسندوں نے ان کے انتخاب کو کالعدم قرار دلوا دیا ہے۔

ستائیس سالہ نینا مرادی نے جون میں منعقدہ بلدیاتی انتخابات میں دس ہزار سے زیادہ ووٹ لیے تھے اور شہری کونسل کے انتخاب کے لیے ایک سو تریسٹھ امیدواروں میں وہ چودھویں نمبر پر رہی تھیں۔ وہ پیشے کے اعتبار سے انجنئیر ہیں اور ویب سائٹ ڈیزائنر ہیں۔

وہ شہری کونسل کی رکن تو منتخب ہوگئیں لیکن ان کا حسن اور جاذب نظر ہونا ان کے انتخاب میں آڑے آگیا ہے اور قدامت پسند مقتدرہ نے انھیں ماڈل قرار دے کر کونسلر بننے سے روک دیا ہے۔ قزوین کے ایک سنئیر عہدے دار نے مقامی پریس سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ''ہم کونسل میں ایک کیٹ واک ماڈل نہیں چاہتے ہیں''۔

انھوں نے ''نوجوان مستقبل کے لیے نوجوان نظریات'' کے نعرے کے ساتھ انتخاب لڑا تھا اور قزوین میں خواتین کے بہتر حقوق، قدیم شہر کی بحالی اور شہری منصوبہ بندی (ٹاؤن پلاننگ) میں نوجوانوں کے زیادہ کردار کی بات کی تھی۔ ایرانی عدلیہ اور انٹیلی جنس سروسز نے بطور امیدوار ان کے کاغذات کی جانچ پڑتال کی تھی اور انھیں انتخاب لڑنے کی اجازت دی تھی۔ انھیں ووٹروں میں ان کے آزاد خیال ہونے کی وجہ سے بھی پذیرائی ملی تھی۔

نینا مرادی کے انتخابی مہم کے لیے پوسٹروں پر ان کی مکمل حجاب کے ساتھ تصاویر لگائی گئی تھیں لیکن اس سب کے باوجود قدامت پسند مذہبی حلقوں نے ان کے خلاف مہم برپا کردی اور جونہی ان کی کامیابی کی تصدیق ہوئی، ان حلقوں نے ان کی نااہلی کا مطالبہ شروع کردیا۔

مذہبی گروپوں کے اتحاد نے گورنر قزوین کے نام ایک خط لکھا اور مرادی کے ''غیر شائستہ اور مذہب مخالف'' پوسٹروں کی مذمت کردی۔ انھوں نے لکھا کہ یہ پوسٹر اسلامی قانون کی خلاف ورزی پر مبنی ہیں۔

ایک مقامی نیوز ویب سائٹ ایران وائر نے اطلاع دی ہے کہ ان کی مہم پر چند اور اعتراضات بھی کیے گئے تھے۔ ان کا ہیڈکوارٹر مقامی نوجوانوں کی اجتماع گاہ بن گیا تھا۔ ان نوجوانوں کے لباس اور رویے پر نینا مرادی کے مخالفین اور خاص طور پر قدامت پرست مردوں نے تنقید کی تھی۔اس شکایت کو چیلنج کیا گیا تھا لیکن حکام نے اس دوشیزہ کو اسلامی اقدار کی پاسداری نہ کرنے کی بنا پر نااہل قرار دے دیا ہے۔

ایران وائر نے مقامی میڈیا کے حوالے سے مزید یہ اطلاع دی ہے کہ حکام نے دو اور خاتون امیدواروں مریم نخوستین احمدی اور شہلا عطفہ کے پوسٹرز بھی ضبط کر لیے ہیں اور انھیں پوچھ گچھ کے لیے حراست میں لے لیا ہے۔

ایرانی صدر حسن روحانی نے انتخابی مہم کے دوران خواتین کے لیے ایک نئے دور کے آغاز کا اعلان کیا تھا۔ ان کے الفاظ میں:''میں خواتین کے امور کی ایک وزارت بناؤں گا تاکہ خواتین کو ان کے حقوق لوٹائے جاسکیں''۔ اب دیکھتے ہیں کہ وہ اپنے ان نعروں کو کہاں تک عملی جامہ پہناتے ہیں۔