.

شامی اپوزیشن جنگجوٶں کا اردن کے سرحدی علاقوں پر کنٹرول

درعا کے ارد گرد وقفے وقفے سے جھڑپیں جاری ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شامی میڈیا سینٹر نے دمشق مخالف شامی اپوزیشن فوج 'جیس الحر' کے حوالے سے بتایا ہے کہ اپوزیشن جنگجوٶں نے بشار الاسد نواز سرکاری فوج کے ساتھ شدید لڑائی کے بعد اردن اور شام کی سرحد پر مشرقی درعا کے علاقے میں دمشق فوج کے پانچ اہم ٹھکانوں کا کنڑول حاصل کر لیا ہے. شامی فوج اور اپوزیشن جنگجوٶں کے درمیان علاقے میں وقفے وقفے سے جھڑپوں کا سلسلہ جاری ہے. جیش الحر نے شامی فوج اور سرکاری سرپرستی میں اپوزیشن سے نبرد آزما متعدد اہلکاروں کو گرفتار بھی کر لیا ہے.

دوسری جانب درعا کے علاقے داعل میں نہتے شہریوں کے گھروں پر شامی فوج کی گولا باری کے نتیجے میں متعدد عام شہری زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں. میڈیا سینٹر کے مطابق جیش الحر نے حماہ شہر کے نواح میں اپنی پیش قدمی جاری رکھی ہوئی ہے، جس کے نتیجے میں ایک مزید گاٶں اپوزیشن جنگجوٶں کے زیر نگین آ گیا ہے.

درایں اثناء دیر الزور کے فوجی ہوائی اڈے کے اردگرد جھڑپوں کا سلسلہ جاری ہے جبکہ شامی فضائیہ کے لڑاکا طیاروں نے الشحیل نامی بلدیہ پر بمباری بھی کی. ایک دوسری پیش رفت میں جیش الحر نے دیر الزور کے علاقے الحویقہ میں الممیزون سکول چیک پوسٹ پر قبضہ کر لیا ہے. اس کارروائی میں شامی فوج کے متعدد اہلکاروں کے مارے جانے کی اطلاعات بھی ہیں جبکہ جیش الحر نے آپریشن کے بعد الحویقہ کالونی کو مکمل طور پر سرکاری گماشتوں کے کنڑول سے آٓزاد کرانے کا بھی دعوی کیا ہے.

سرکاری فوج اور جیش الحر کے درمیان برزہ اور جوبر کالونیوں میں بھی جھڑپوں کی اطلاعات ہیں جبکہ سرکاری فوج ان کالونیوں پر حملے کی سرتوڑ کوششوں میں مصروف ہیں. دارلحکومت دمشق کی القابون کالونی میں طاقت کا توازن جیش الحر کے حق میں ہے اور وہی سرکاری فوج پر حملوں میں پہل کر رہے ہیں.

مقامی کوارڈی نیشن کمیٹیوں نے شام کے مختلف علاقوں میں گذشتہ روز سرکاری فوج کی گولیوں کا نشانہ بننے والی خواتین، بچوں اور نوجوانوں کی تعداد 99 بتائی ہے.