.

سکائی نیوز کا کیمرا مین، دبئی کی رپورٹر مصر کے خونیں کریک ڈاؤن کی نذر

مرسی کے حامیوں کے خلاف کارروائی کے دوران صحافیوں پر فائرنگ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں برطرف صدر ڈاکٹر محمد مرسی کے حامیوں کے خلاف مسلح فورسز کے خونیں کریک ڈاؤن کی کوریج کے دوران دو صحافی مارے گئے ہیں۔ ان میں ایک برطانیہ کے سکائی نیوز کا کیمرا مین اور دوسری دبئی سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون رپورٹر ہے۔

سکائی نیوز نے ایک نشریے میں بتایا ہے کہ اس کے کیمرامین میک ڈین آج قاہرہ میں تشدد کو کور کرتے ہوئے ہلاک ہوگئے ہیں۔ اس کی ٹیم کے دوسرے ارکان محفوظ ہیں اور ان میں سے کوئی زخمی نہیں ہوا۔

اکسٹھ سالہ ڈین گذشتہ پندرہ سال سے سکائی نیوز کے لیے کام کررہے تھے۔ وہ پہلے واشنگٹن اور پھر مقبوضہ بیت المقدس میں صحافتی فرائض کے سلسلہ میں متعین تھے۔ فوری طور پر یہ واضح نہیں ہوا کہ وہ کس کی گولی کا نشانہ بنے ہیں۔

ان کی موت کی اطلاع ملتے ہی سیاسی اور صحافتی حلقوں کی جانب سے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا گیا ہے اور انھیں خراج عقیدت پیش کیا گیا ہے۔ برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون نے ان کی ناگہانی موت پر ان کے خاندان کے ساتھ تعزیت اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔

سکائی نیوز نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ڈین انتہائی تجربہ کار صحافی تھے۔ انھوں نے سوگواروں میں بیوہ اور دو بیٹے چھوڑے ہیں۔ بیان کے مطابق ''میک ڈین قاہرہ شہر میں مشرق وسطیٰ کے نمائندے سام کیلے کے ساتھ بدامنی کی رپورٹنگ کررہے تھے۔ اس دوران انھیں گولی لگی اور وہ زخمی ہوگئے۔انھیں فوری طبی امداد دی گئی لیکن اس کے باوجود وہ اپنے زخموں کی تاب نہ لا کر چل بسے''۔

سکائی نیوز کے سربراہ جان ریلے نے بھی ڈین کو خراج عقیدت پیش کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ''سکائی نیوز میں ہر کوئی میک کی موت پر صدمے سے دوچار ہے۔ ان کی موت کو ادارے میں تادیر محسوس کیا جاتے رہے گا''۔

آج قاہرہ میں خونریز واقعات کے دوران دبئی سے تعلق رکھنے والی ایک رپورٹر چھبیس سالہ حبیبہ احمد عبدالعزیز بھی گولی لگنے سے جاں بحق ہوگئی ہیں۔ وہ دبئی سے شائع ہونے والے گلف نیوز کے ملکیتی اخبار ایکسپریس کی اسٹاف رپورٹر تھیں۔

ان کے خاندان کا کہنا ہے کہ وہ قاہرہ کے رابعہ العدویہ اسکوائر میں گولی لگنے سے جاں بحق ہوئی ہیں۔ گلف نیوز کے ایڈیٹر انچیف عبدالحمید احمد نے ایک بیان میں ان کی موت کی تصدیق کی ہے۔

انھوں نے العربیہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ''حبیبہ العزیز قاہرہ میں دفتر کی جانب سے صحافتی فرائض کے سلسلہ میں نہیں گئی تھیں بلکہ وہ وہاں سالانہ چھٹیوں پر تھیں۔ ان کی موت پر گلف نیوز اور ایکسپریس کے نیوز روم کے تمام ارکان صدمے میں ہیں''۔