.

محمد البرادعی قاہرہ میں خونریزی کے بعد نائب صدارت سے مستعفی

بحران کے پُرامن حل کے اور بھی طریقے تھے، فورسز کے کریک ڈاؤن سے اختلاف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کے نائب صدر محمد البرادعی قاہرہ میں برطرف صدر محمد مرسی کے حامیوں کے خلاف سکیورٹی فورسز کے خونین کریک ڈاؤن کے بعد مستعفی ہوگئے ہیں۔

انھوں نے مستعفی ہونے کے بعد ایک بیان میں کہا ہے کہ'' وہ اس فیصلے کی ذمے داری نہیں اٹھا سکتے جس سے انھوں نے اختلاف کیا تھا''۔ انھوں نے بیان میں مزید کہا کہ ''ملک میں جاری بحران کو پرامن ذرائع استعمال کرکے بھی حل کیا جاسکتا تھا''۔

جامعہ قاہرہ میں بین الاقوامی تعلقات کے پروفیسر طارق فہمی نے العربیہ سے گفتگو میں ان کے استعفے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اس سے مسلح افواج کی جانب سے انتقال اقتدار کے لیے اعلان کردہ سیاسی نقشہ راہ پر کوئی فرق نہیں پڑے گا۔

جوہری توانائی کے عالمی ادارے (آئی اے ای اے) کے سابق سربراہ اور نوبل انعام یافتہ محمد البرادعی مصر کے پہلے جمہوری صدر محمد مرسی کے خلاف تحریک میں پیش پیش رہے تھے۔انھیں 3 جولائی کو مسلح افواج کے سربراہ جنرل عبدالفتاح السیسی کے ہاتھوں ڈاکٹر مرسی کی برطرفی کے بعد قائم کی گئی عبوری حکومت میں نائب صدر کا منصب سونپا گیا تھا۔

وہ فوج کی نگرانی میں بننے والی عبوری حکومت میں وزارت عظمیٰ کے بھی مضبوط امیدوار تھے لیکن سلفی تحریک سمیت بعض اسلامی جماعتوں نے ان کی نامزدگی کی مخالفت کی تھی۔ اس کے بعد انھیں عبوری نائب صدر بنا دیا گیا تھا۔اب انھوں نے برطرف صدر کے پُرامن حامیوں کے خلاف مسلح فورسز کے خونیں کریک ڈاؤن کے خلاف احتجاجاً مستعفی ہوکر اپنی ''عزتِ سادات'' بچانے کی کوشش کی ہے۔