.

مصر: اخوان کے مزید کئی رہنما گرفتار کر لیے گئے

وزارت داخلہ کی تصدیق، دو سو مسلح افراد بھی حراست میں لے لیے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کی عبوری حکومت نے برطرف کیے گئے صدر مرسی کے حامیوں اور ملک میں حسنی دور کے بجائے جمہوری دور واپس لانے کا مطالبہ کرنے والوں کے تقریبا ڈیڑھ ماہ سے جاری دھرنے کو بزور اکھاڑنے کا آپریشن شروع کرتے ہی ملک بھر میں گرفتاریاں تیز کر دی ہیں.

وزارت داخلہ کے اعلی سطحی افسر عبدالفتح عثمان نے تصدیق کی ہے کہ بدھ کے روز اخوان المسلمون کے متعدد رہنماوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔ واضح رہے اخوان المسلمون کی مرکزی قیادت پہلے ہی زیر حراست ہے،جس کی رہائی کے لیے عالمی برادری عبوری حکومت اور مصری فوج سے مطالبہ کرتی رہی ہے۔

مسجد رابعہ العدوایہ سے دھرنا اکھاڑنے کی کوششوں کے دوران مارے جانے والے اخوانی کارکنوں کے قتل کے خلاف مصری وزارت داخلہ احتجاج کا خدشہ دیکھتی ہے اس لیے گرفتاریاں کی جا رہی ہیں، تاکہ امن و امان کی صورت حال حکومت کے قابو میں رہے۔

وزارت داخلہ نے بتایا ہے کہ بدھ کے روز اب تک سکیورٹی فورسز نے دو سو مسلح افراد کو حراست میں لے لیا ہے۔ آج بدھ ہی کے روز مصری حکومت نے ملک بھر میں ریل سروس بند کرنے کا اعلان کیا ہے تاکہ ''مشکوک عناصر'' کی نقل و حرکت روکی جا سکے۔