مصر: اخوان کے مزید کئی رہنما گرفتار کر لیے گئے

وزارت داخلہ کی تصدیق، دو سو مسلح افراد بھی حراست میں لے لیے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
1 منٹ read

مصر کی عبوری حکومت نے برطرف کیے گئے صدر مرسی کے حامیوں اور ملک میں حسنی دور کے بجائے جمہوری دور واپس لانے کا مطالبہ کرنے والوں کے تقریبا ڈیڑھ ماہ سے جاری دھرنے کو بزور اکھاڑنے کا آپریشن شروع کرتے ہی ملک بھر میں گرفتاریاں تیز کر دی ہیں.

وزارت داخلہ کے اعلی سطحی افسر عبدالفتح عثمان نے تصدیق کی ہے کہ بدھ کے روز اخوان المسلمون کے متعدد رہنماوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔ واضح رہے اخوان المسلمون کی مرکزی قیادت پہلے ہی زیر حراست ہے،جس کی رہائی کے لیے عالمی برادری عبوری حکومت اور مصری فوج سے مطالبہ کرتی رہی ہے۔

مسجد رابعہ العدوایہ سے دھرنا اکھاڑنے کی کوششوں کے دوران مارے جانے والے اخوانی کارکنوں کے قتل کے خلاف مصری وزارت داخلہ احتجاج کا خدشہ دیکھتی ہے اس لیے گرفتاریاں کی جا رہی ہیں، تاکہ امن و امان کی صورت حال حکومت کے قابو میں رہے۔

وزارت داخلہ نے بتایا ہے کہ بدھ کے روز اب تک سکیورٹی فورسز نے دو سو مسلح افراد کو حراست میں لے لیا ہے۔ آج بدھ ہی کے روز مصری حکومت نے ملک بھر میں ریل سروس بند کرنے کا اعلان کیا ہے تاکہ ''مشکوک عناصر'' کی نقل و حرکت روکی جا سکے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں