.

مرسی نواز احتجاجی مظاہرین کے خلاف آپریشن، 278 جاں بحق

دھرنا طاقت سے ختم کرانے کے لئے ہیلی کاپٹر اور بلڈوزروں کا استعمال

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کے پہلے جمہوری صدر ڈاکٹر محمد مرسی کی فوج کے سربراہ جنرل عبدالفتاح السیسی کے ہاتھوں تین جولائی کی برطرفی کے بعد جمہوری حکومت اور مرسی کے حامیوں کے تقریبا ڈیڑھ ما ہ تک جاری رہنے والے دھرنے کو مصری سکیورٹی اداروں نے آج اکھاڑ پھینکا ہے۔ سرکاری اطلاعات کے مطابق 278 مظاہرین لقمہ اجل بن گئے ہیں۔

اس آپریشن میں سکیورٹی اداروں کی بھاری نفری کے علاوہ فوج کے ہیلی کاپٹر فضائی نگرانی جبکہ فوجی بلڈوزر اکھاڑ پچھاڑ میں کام آئے۔ مصری سکیورٹی فورسز نے آپریشن کا بھر پور آغاز بدھ کی صبح ہی کر دیا تھا اور صبح سویرے پہلے ہلے میں ہی دھرنے کے 15 شرکاء مارے جا چکے تھے۔

رمضان المبارک اور عید الفطر کے دنوں میں بھی دھرنا جاری رکھنے والے اخوانی سکیورٹی اداروں کی بھر پور منظم اور مشترکہ تیاری کے باعث ریاستی طاقت کے آگے زیادہ دیر کھڑے نہ رہ سکے۔ پولیس تصدیق کے مطابق اب تک ان میں سے 43 افراد کی موت کنفرم ہو گئی ہے۔

آپریشن کے دوران دھرنے کی جگہ فائرنگ اور آنسو گیس کی آوازیں، زخمیوں کی چیخ پکار اور جمہوریت و شہادت کے نعروں اور زہریلے گہرے دھوئیں کے باعث ایک عجیب منظر پیش کرتی رہی۔ اخوان المسلمون نے دعوی کیا ہے کہ اب تک اس تین سو سے زائد کارکن اس آپریشن کے دوران جاں بحق ہو چکے ہیں۔ البتہ پولیس نے 278افراد کے مرنے کی تصدیق کی ہے۔

آپریشن کے آغاز سے پہلے کئی دن تک عبوری حکومت اور سکیورٹی اداروں کے درمیان جاری رہنے والی مشاورت کے بعد رواں ہفتے کے شروع میں زمین پر سرگرمیاں شروع کر دی گئی تھیں۔ سب سے پہلے دھرنے کی جگہ کے لیے بجلی کی فراہمی منقطع کی گئی، جبکہ پانی کی بندش بھی آپریشن پلان کا حصہ تھی۔ اسی طرح بعد ازاں دھرنے والے پورے علاقے کو سکیورٹی فورسز نے پہلے ہی محاصرے میں لے لیا گیا تھا۔

منگل اور بدھ کی درمیانی شب مرسی مخالفین بھی گلی محلوں متحرک ہو گئے اور بدھ کی صبح آپریشن باضاطہ شروع کر دیا گیا۔ آپریشن کے دوران سینکڑوں کے زخمی ہونے اور سینکڑوں ہی کی گرفتاری کی اطلاع ہے ۔ آپریشن کے زور دار وار کو روکنے کے لیے فوج کے ہاتھوں برطرف شدہ صدر مرسی کے حامیوں نے بھی سکیورٹی فورسز کی طاقت کے خلاف مزاحمت کے طور پر سڑکوں پر پرانے ٹائر جلائے، لیکن وہ کیل کانٹے سے لیس فورسز کی مظاہرین کے خلاف پیش قدمی نہ روک سکے۔

دو روز قبل سرکاری ذرائع نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر میڈیا کو بتایا تھا کہ دھرنا ختم کرنے کے دوران تین ہزار سے پانچ ہزارافراد کے مارے جانے کا اندیشہ ہے، تاہم بدھ کے روزاس خدشے سے کافی کم جانی نقصان سامنے آیا ہے ۔

قاہرہ سے العربیہ کی براہ راست رپورٹس کے مطابق مسجد رابعہ العدوایہ کے ایک جانب دھرنے کے شرکا کے بنائے گئے کیمپوں پر آنسو گیس کی بارش جاری تھی اور پولیس کی گاڑیاں سائرن بجاتے ہوئے مظاہرین کو جگہ خالی کرنے کے لیے کہہ رہے تھے۔

ایک موقع پر ایک اہم سکیورٹی افسر نے کہا'' یہ آپریشن کی محض شروعات ہیں''ایک اور ذمہ دار نے بتایا کہ اسی نوعیت کا آپریشن دھرنے کے دوسرے مرکز النہضہ سکوائر پر کیا جاچکا ہے۔''اسی دوران ایک عینی شاہد اہشورعابد نے میڈیا کو بتایا '' صبح سویرے مارے گئے افراد کی لاشیں فیلڈ ہسپتال میں لے جائی گئی ہیں''

مصر کے سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق'' سکیورٹِی فورسز نے ایک مرحلہ وار آپریشن شروع کیا ہے جس کے نتیجے میں سیاسی بحران سنگین ہونے کا خطرہ ہے''

العربیہ کے نمائندے نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ''سکیورٹی فورسزنے مسجد رابعہ العدوایہ کی طرف سے آنے والی ناصر سٹریٹ کے پاس پہنچ کر اسے کھولنے کی کوشش تاکہ جو لوگ دھرنا چھوڑ کر باہر آنا چاہیں ان کی مدد کی جا سکے۔''

ایک غیِر ملکی خبر رساں ادارے کے نمائندے کے مطابق '' قاہرہ کے مشرقی حصے میں آسمان پر دھواں چھایا رہا اور خواتین کے رونے کی آوازیں گونجتی رہیں۔''میڈیا رپورٹس کے مطابق آپریشن میں فوج کے بلڈوزرز بھی شریک ہوئے جو فورسز کا راستہ صاف کرنے کے لیے مظاہرین کی طرف سے رکھی گئی ریت کی بوریاں اور عارضی طور پر قائم اینٹوں کی دیواروں کے علاوہ شرکائے دھرنا کے کیمپ اکھاڑنے کے کام آئے۔

ادھر اخوان المسلمون کے بقول اس آپریشن کے دوران اس کے ایک سو سے زائد کارکن مارے گئےہیں۔ دوسری طرف سے دو سکیورٹی اہلکاروں کے بھی مرنے کی اطلاع آئی ہے، تاہم فی الحال یہ کہنا مشکل ہے کہ گولی لگنے سے مارے گئے لوگو ں کی تعداد کتنی ہے اور آنسو گیس کی وجہ سے کتنی تعداد میں لوگوں کا سانس مستقل رک گیا۔

مصری وزارت داخلہ نے فوری طور ملک بھر میں ٹرین سروس معطل کر دی ہے ۔ ریل گاڑیوں کی آمدو رفت حکومت کے اگلے حکم تک بند رہے گی ۔ فوری طور پر یہ معلوم نہیں ہو سکا حکومت نے ٹرین سروس روکنے کا فیصلہ پہلے کر رکھا تھا یا آپریشن شروع کرنے کے بعد ہنگامی بنیادوں پر کیا ہے۔

مصری سرکار کی فراہم کردہ اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ سکیورٹی فورسز نے آپریشن کے دوران مظاہرین سے مشین گنیں برآمد کی ہیں۔ ان برآمد کردہ مشین گنوں کی تعداد معلوم نہیں ہو سکی ہے۔ یہ بھی اطلاع موصول ہوئی ہے کہ سکیورٹی فورسز نے مرسی کے حامیوں کا مسجد رابعہ العدوایہ کیطرف بڑھنے والا ایک جلوس راستے میں روک دیا۔