.

مصر میں ایک ماہ کے لیے ہنگامی حالت کے نفاذ کا اعلان

سکیورٹی فورسز کی قاہرہ میں مرسی نوازوں کے خلاف خونریز کارروائی کے بعد فیصلہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کے عبوری صدر عدلی منصور نے ملک بھر میں تشدد کے واقعات کے بعد ایک ماہ کے لیے ہنگامی حالت کے نفاذ کا اعلان کردیا ہے۔

ایوان صدر کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں ہنگامی حالت کے نفاذ کا اعلان کیا گیا ہے۔ سرکاری ٹی وی سے نشر ہونے والے اس اعلان میں کہا گیا ہے کہ ایمرجنسی کا آغاز بدھ کی سہ پہر چار بجے سے ہو گا۔ اس میں مسلح افواج سے کہا گیا ہے کہ وہ ملک میں امن وامان کے قیام کے لیے وزارت داخلہ کی مدد کریں۔

قبل ازیں مصر کی مسلح افواج نے دارالحکومت قاہرہ میں برطرف صدر محمد مرسی کے ہزاروں حامیوں کے دو دھرنوں کو خونریز مسلح کارروائی کے ذریعے ختم کردیا ہے۔ سکیورٹی فورسز کی قاہرہ میں اس کارروائی کے بعد ملک بھر میں ہنگامے پھوٹ پڑے ہیں اور ڈاکٹر مرسی کے حامیوں اور سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپوں کی اطلاعات ملی ہیں۔

ایک سکیورٹی تجزیہ کار خالد عکاشہ نے العربیہ سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ''اعلان کردہ سکیورٹی اقدامات سے لوگوں کی نقل وحرکت کو محدود نہیں کیا جائے گا لیکن سکیورٹی فورسز کو مسلح گروپوں کے خلاف کارروائی اور انھیں سڑکیں بلاک کرنے سے روکنے کا اختیار حاصل ہوجائے گا''۔

مصری فورسز نے قاہرہ میں رابعہ العدویہ اسکوائر اور النہضہ اسکوائر میں برطرف صدر کے حامیوں کے احتجاجی دھرنوں کو ختم کرانے کے لیے فوجی طاقت کا بے مہابا استعمال کیا ہے اور ہیلی کاپٹروں ،بکتر بند گاڑیوں اور بلڈوزوروں کی مدد سے کیے گئے آپریشن میں ایک سو سے زیادہ افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔مصرکی وزارت صحت نے ایک سو ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے لیکن آزاد ذرائع اور حکومت مخالفین کا کہنا ہے کہ مرنے والوں کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے اور سیکڑوں افراد زخمی ہوئے ہیں۔