.

مصر میں سات فوجیوں سمیت بیس نئے گورنروں نے حلف اٹھا لیا

ساحلی اور سرحدی صوبوں میں فوجی گورنر مقرر، مرسی دور کے گورنر فارغ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کی عبوری حکومت نے بیس صوبوں کے نئے گورنر مقرر کر کے پورے ملک میں اپنی رٹ قائم کرنے کی طرف پیش قدمی کر لی ہے۔ گورنر بنائے جانے والوں سے سات کا تعلق محمد مرسی کا تختہ الٹنے والی فوج سے ہے۔ عبوری صدر نے نئے گورنروں سے حلف لے لیا۔ اس سے پہلے تمام صوبوں میں معزول صدر ڈاکٹر مرسی کے مقرر کردہ گورنر کام کر رہے تھے۔

عبوری صدر کی طرف سے گورنروں کی تبدلی کا یہ عمل اس وقت ممکن بنایا گیا ہے جب منتخب مگر معزول صدر محمد مرسی کے حامیوں نے دارالحکومت قاہرہ میں چھٹے ہفتے میں داخل ہو جانے والے اپنے طویل سیاسی دھرنے کو مزید مٶثر بنانے میں شریک افرادی قوت بڑھا دی ہے اور اس کا دائرہ وسیع کر کے پورے ملک تک پھیلا دیا ہے۔

مصری فوج کے سربراہ جنرل عبدالفتاح السیسی کے ہاتھوں معزول ہونے والے ڈاکٹر مرسی کے حامیوں نے غیر منتخب عبوری حکومت سے کسی بھی طرح کی بات چیت کرنے سے یہ کہہ کر انکار کر دیا ہے کہ "فوج کی حمایت یافتہ حکومت مصالحتی عمل میں سنجیدہ نہیں کیونکہ اس مقصد کے لے ڈیڑھ ماہ سے سڑکوں پر موجود مظاہرین کے مطالبے کے مطابق اخوان کی اعلی قیادت کی جیلوں سے رہائی کرنے پر تیار نہیں ہے۔" اس صورت حال میں عبوری حکومت نے بیس صوبوں میں نئے گورنر مقرر کر کے درحقیقت ایک پیش قدمی کی ہے تاکہ اسلام پسندوں کو ملکی انصرام سے مکمل طور پر الگ کر کے عبوری مرحلے سے گزر سکے۔

عبوری حکومت نے ان بیس نئے گورنروں میں سات ایسے گورنر بھی شامل کیے ہیں جن کا تعلق فوج سے ہے، روائتی طور پر ان میں سے اکثریت کو ایسے صوبوں میں تعینات کیا گیا ہے جو صوبے سرحدوں سے متصل ہیں۔ البتہ دو فوجی گورنروں کو ساحلی شہروں سکندریہ اور پورٹ سعید بطور گورنر بھیجا گیا ہے۔ ان شہروں میں مرسی کے حامیوں اور مخالفین کے مظاہرے پرتشدد ہو گئے تھے۔ واضح رہے ملک کے 27 صوبوں میں سے دس کے گورنر معزول صدر مرسی نے اخوان کے حامیوں میں سے مقرر کیے تھے جبکہ 17 گورنروں کی تقرری صدر مرسی نے اپنے معزول کئے جانے سے کچھ ہی عرصہ قبل کی تھی۔

مرسی کی طرف سے اہم سیاحتی شہر کے لیے اسلام پسند جماعت گماعت اسلامیہ سے تعلق رکھنے والے گورنر کی تقرری کی گئِ تو اس پر ایک نئی بحث شروع ہو گئی تھی ۔ اسی شہر میں 1997 میں 58 سیاحوں کا قتل بھی ہو چکا تھا جس کی ذم داری ایک اسلام پسنگروپ نے قبول کی تھی۔ اس لیے یہ سیاحتی شہر کافی حساسیت رکھتے ہیں۔