.

مصر کی صورتحال پر عالمی تشویش، ہنگامی حالت کے خاتمے کا مطالبہ

یورپی یونین کا تحمل کا مشورہ، شیخ الازہر نے ذمہ داری فریقین پر ڈال دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر میں منتخب جمہوری صدر محمد مرسی کی فوجی طریقے سے برطرفی کے خلاف جاری عوامی احتجاجی دھرنے کو طاقت سے کچل دینے کے بعض ممالک نے مذمت کی، بعض نے تشویش ظاہر کی اور سویلین کے خلاف فوجی استعمال کو ناپسند کیا ہے۔

امریکا اور یورپی یونین نے قاہرہ حکومت پر ایمرجنسی اٹھانے کے لیے زور دیا ہے۔ امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے محکمہ خارجہ میں صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ بدھ کے واقعات افسوس ناک ہیں اور ان کے امن اور حقیقی جمہوریت کے لیے مصر کی خواہشات پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔

یورپی یونین کی سربراہ برائے خارجہ پالیسی کیتھرین ایشٹن نے بھی تشدد کی مذمت کرتے ہوئے عبوری حکومت سے کہا ہے کہ ایمرجنسی جلد از جلد اٹھائی جائے۔

عالمی برادری کے ردِ عمل کے باوجود مصر کے عبوری وزیر اعظم حازم الببلاوی نے مظاہرین کے خلاف کریک ڈاؤن کے حکومتی فیصلے کا دفاع کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کارروائی کے علاوہ کوئی چارا نہیں تھا۔

انہوں نے بدھ کو ایک بیان میں کہا: ’’ہم اس نتیجے پر پہنچے کہ معاملات اس نہج پر پہنچ چکے تھے جسے عزت نفس رکھنے والی کوئی ریاست قبول نہیں کر سکتی۔‘‘ انہوں نے کہا کہ انارکی پھیل رہی تھی اور ہسپتالوں اور تھانوں پر حملے کیے جا رہے تھے۔

ہنگامی حالت کے اعلان کے حوالے سے وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ ایمرجنسی محدود مدت تک کے لیے نافذ رہے اور جس قدر جلدی ممکن ہوا اس کو ختم کر دیا جائے گا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ حکومت جمہوریت کی بحالی کی کوششوں میں سنجیدہ ہے۔

ادھر مصر کے معتبر ترین سمجھے جانے والے علمی مرکز جامعہ الازہر کے سربراہ شیخ احمد الطیب نے دھرنے کے شرکاء اور دھرنا ختم کرنے والے دونوں فریقوں کو تحمل کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ "ان کے علم میں نہیں تھا قاہرہ میں دھرنا ختم کرنے کے لیے کیا ذرائع استعمال کیا جا رہے ہیں۔"

تفصیلات کے مطابق حالیہ ڈیڑھ ماہ کے دوران مصر میں درجنوں کی تعداد میں سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں کے مارے جانے کا یہ تیسرا بڑا موقع ہے جس پر عالمی سطح پر ردعمل بھی ظاہر کیا گیا ہے۔ تاہم یہ اس ناطے پہلا موقع ہے کہ دھرنے کے خاتمے کے دوران مارے گئے اخوان کے درجنوں کارکنوں کے حق میں مصر کے طول و عرض میں ہنگامے شروع ہو گئے ہیں اور مختلف شہروں سے ہلاکتوں کی خبریں موسول ہوئی ہیں، حتی کہ نہر سویز جیسے حساس علاقے میں بھی بدھ کی شام تک پانچ افرد مارے جا چکے ہیں ۔

اسی طرح قاہرہ میں سرکاری اطلاعات کے مطابق فایوم میں نو افراد جاں بحق ہوئے جبکہ مائنا میں بھی نصف درجن کے قریب لوگ لقمہ اجل بن گئے ہیں ۔

انسانی حقوق اور مصری عوام کے بارے میں حساسیت رکھنے والے ملکوں نے اس صورتحال پر افسوس کا اظہار کیا ہے کہ سکیورٹی فورسز کی ایک کارروائی کے دوران 278 شہریوں کا جاں بحق ہو جانا تشویشناک ہے۔

یورپی یونین نے فریقین کو تحمل کا مشورہ دیا ہے، البتہ ترکی کے صدرعبداللہ گل، ایران، قطر اور جرمنی نے عام شہریوں کے خلاف طاقت کے اس استعمال کو افسوسناک کہا ہے۔ جامعہ الازہر کے سربراہ ڈاکٹر احمد الطیب جنہوں طویل خاموشی کے بعد گذشتہ دنوں مصالحت کی پش کش کی مظاہرین اور سکیورٹی فورسسز دونوں کو صورتحال ذمہ دار ٹھرایا ہے۔ البتہ انہوں دھرنا اکھاڑنے کے لیے اختیار کیے گئے طریقوں کے بارے میں خود کو لا علم بتایا ہے۔