القاعدہ سے وابستہ گروپ نے اطالوی پادری کو قتل کر دیا: شامی آبزرویٹری

پاؤلو اوگلیو کو باغیوں کے زیر قبضہ شہرالرقہ سے اغوا کیا گیا تھا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

شام میں گذشتہ ماہ لا پتا ہونے والے اطالوی پادری کو القاعدہ سے وابستہ ایک گروپ نے قتل کر دیا ہے۔

لندن میں قائم شامی آبزرویٹری برائے انسانی حقوق نے بدھ کو پاؤلو ڈال اوگلیو کی ہلاکت کی اطلاع دی ہے۔ وہ شامی صدر بشار الاسد کے خلاف عوامی مزاحمتی تحریک کے بہت بڑے حامی تھے۔ وہ 29 جولائی کو باغیوں کے زیر قبضہ شہر الرقہ میں لاپتا ہوگئے تھے۔

شامی آبزرویٹری نے الرقہ شہر کے مقامی کارکنان کے حوالے سے بتایا ہے کہ ڈال اوگلیو کو ریاست اسلامی عراق اور شام سے تعلق رکھنے والے جنگجوؤں نے اغوا کیا تھا اور اغواکاروں نے ہی انھیں قتل کیا ہے۔فوری طور پر اس رپورٹ کی تصدیق ممکن نہیں ہے۔

آبزرویٹری نے شامی حزب اختلاف کی تمام فورسز پر زور دیا ہے کہ وہ ریاست اسلامی عراق کے جنگجوؤں پر ڈال اوگلیو کی ہلاکت کی تمام تفصیل ظاہر کرنے کے لیے دباؤ ڈالیں تاکہ ان کی موت کے ذمے داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جا سکے۔ نیز ان کی لاش تدفین کے لیے حوالے کی جائے۔

کارکنان نے اس سے پہلے کہا تھا کہ انھیں ریاست اسلامی عراق وشام سے وابستہ جنگجوؤں نے اغوا کیا تھا۔ تاہم ان میں سے بعض نے کہا تھا کہ مقتول پادری القاعدہ سے وابستہ جنگجوؤں سے ان کی کرد بریگیڈز کے ساتھ جنگ بندی کے سلسلہ میں ملاقات کے لیے گئے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں