امریکی صدر نے مصر کے ساتھ مشترکہ فوجی مشقیں منسوخ کردیں

مصر خطرناک راستے پر چل پڑا ہے، شہریوں کے خلاف تشدد کے استعمال کی شدید مذمت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

امریکی صدر براک اوباما نے اس سال مصری فوج کے ساتھ برائٹ اسٹار کے نام سے ہونے والی مشترکہ بڑی فوجی مشقیں منسوخ کردی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ''مصر اس وقت خطرناک راستے پر چل پڑا ہے''۔

صدر اوباما نے کہا کہ ''امریکا مصر کی عبوری حکومت اور سکیورٹی فورسز کے اقدامات کی شدید مذمت کرتا ہے''۔ انھوں نے جمعرات کو یہ بیان میساچیوسٹس کے جزیرے مارتھا وائن یارڈ میں قیام کے دوران جاری کیا ہے۔

انھوں نے مصری سکیورٹی فورسز کے برطرف صدر ڈاکٹر محمد مرسی کے حامیوں کے خلاف خونیں کریک ڈاؤن پر اپنے ردعمل میں کہا کہ ''ہم شہریوں کے خلاف تشدد کے استعمال کی مذمت کرتے ہیں۔ہم پُرامن احتجاج کے حق سمیت انسانی وقار کے لیے ناگزیر یونیورسل حقوق کی حمایت کرتے ہیں''۔

واضح رہے کہ امریکا اور مصر کی مسلح افواج ہر دوسال کے وقفے کے بعد برائٹ اسٹار کے نام سے مشترکہ مشقیں کرتی ہیں۔ ان مشترکہ مشقوں کو دونوں ممالک کی مسلح افواج کے درمیان تعاون میں مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ امریکی فوج کی مرکزی کمان کے تحت خطے میں یہ فوجی مشقیں سب سے قدیم ہیں اور یہ 1981ء سے کی جارہی ہیں۔ان مشقوں کا آغازمصراور اسرائیل کے درمیان کیمپ ڈیوڈ معاہدے کے بعد کیا گیا تھا۔

اس سے قبل 2009ء میں مصر اور امریکا کی قیادت میں مشترکہ فوجی مشقیں ہوئی تھیں اوران میں اردن، کویت، پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کی افواج نے بھی حصہ لیا تھا۔

اس کے دوسال کے بعد دونوں ممالک نے سابق صدر حسنی مبارک کے خلاف 2011 ء کے اوائل میں عوامی احتجاجی تحریک کے نتیجے میں ہونے والی اتھل پتھل کے بعد مشترکہ فوجی مشقوں کو منسوخ کردیا تھا۔مصر اور امریکا کے عسکری حکام نے 2013ء میں فوجی مشقوں کی بحالی سے اتفاق کیا تھا اور اس سلسلہ میں جون 2012ء سے منصوبہ بندی شروع کی گئی تھی جب منتخب جمہوری صدر ڈاکٹر محمد مرسی نے اقتدار سنبھالا تھا۔

3 جولائِی کو مصر کی مسلح افواج نے ان کو برطرف کردیا اور بدھ کو ان کی بحالی کے لیے احتجاج کرنے والے ان کے ہزاروں حامیوں کے دھرنوں کو بزور طاقت اکھاڑ دیا ہے۔مصری فورسز کی اس خونریز کارروائی میں سیکڑوں افراد ہلاک اور زخمی ہوگئے ہیں۔

مصر جنوری 2011ء میں سابق صدر حسنی مبارک کے خلاف عوامی تحریک کے آغاز اور 11 فروری کو ان کی رخصتی کے بعد سے سیاسی اور داخلی طور پر عدم استحکام سے دوچار ہے۔حسنی مبارک کی اقتدار سے علاحدگی کے بعد مصر کی مسلح افواج کی سپریم کونسل نے نظام حکومت سنبھال لیا تھا۔اب ایک مرتبہ پھر ملک کی زمام کار مسلح افواج کے ہاتھ میں ہے لیکن اب کے اس نے سپریم کونسل کے بجائے کٹھ پتلی عبوری حکومت کو آگے کردیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں