بغداد: 8 کار بم دھماکوں میں 34 افراد جاں بحق،100 زخمی

القاعدہ کو عراق کو شام بنانے کی اجازت نہیں دی جائے گی: وزارت داخلہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

عراق کے دارالحکومت بغداد میں آٹھ بم دھماکوں میں چونتیس افراد جاں بحق اور ایک سو سے زیادہ زخمی ہوگئے ہیں۔ عراقی وزارت داخلہ نے ان بم دھماکوں کے بعد ایک بیان میں کہا ہے کہ القاعدہ کو عراق کو شام بنانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

حملہ آوروں نے جمعرات کو بغداد کے سخت سکیورٹی والے علاقے گرین زون میں بھی دھماکا کیا ہے۔ اس علاقے میں امریکا اور دوسرے مغربی ممالک کے سفارت خانے قائم ہیں۔ پولیس حکام نے بتایا ہے کہ بغداد کے وسطی، مشرقی، شمالی اور جنوبی علاقوں میں جمعرات کو وقفے وقفے سے کار بم دھماکے ہوئے ہیں۔

الشرطۃ الرابعہ کے علاقے میں گیس سلنڈروں سے لدے ٹریکٹر ٹریلر میں دھماکے سے چار افراد ہلاک ہوئے ہیں اور دارالحکومت کے شمال مشرقی علاقے حسینیہ میں کار بم دھماکے میں تین افراد مارے گئے ہیں۔ کاظمیہ میں کار بم دھماکے میں سات افراد ہلاک اور بیس زخمی ہوگئے۔

فوری طور پر یہ واضح نہیں ہوا کہ یہ بم حملے کس نے کیے ہیں اور نہ کسی گروپ نے اس کی ذمے داری قبول کی ہے لیکن عراق میں خود کش حملوں اور کار بم دھماکوں کو القاعدہ کا ٹریڈ مارک قرار دیا جاتا رہا ہے اور اس کے جنگجو اہل تشیع اور عراقی سکیورٹی فورسز کو اپنے حملوں میں نشانہ بناتے رہتے ہیں۔

واضح رہے کہ رواں سال کے آغاز کے بعد سے عراق کے مختلف شہروں میں تشدد کا سلسلہ جاری ہے اور فرقہ وارانہ بنیاد پر تشدد کے واقعات میں اہل تشیع اور اہل سنت دونوں سے تعلق رکھنے والے جنگجو ایک دوسرے کو نشانہ بنا رہے ہیں۔

عراق کی وزارت داخلہ نے دہشت گردی کے ان واقعات کے بعد جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ ''عراق کی گلیاں اور بازار فرقہ پرست لوگوں کا میدان جنگ بن گئے ہیں۔یہ لوگ مذہبی فتووں اور منافرت سے تحریک پکڑ رہے ہیں اور بے گناہ لوگوں کو قتل کررہے ہیں''۔

''اس جنگ کو جیتنا ہماری منزل ہے کیونکہ اس جنگ کا مقصد اس ملک کو تباہ کرنا اور اس کو ایک اور شام بنانا ہے''۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے۔ واضح رہے کہ وزیراعظم نوری المالکی کی حکومت نے جنگجوؤں کے خلاف ایک بڑی کارروائی شروع کررکھی ہے۔ نوری المالکی نے گذشتہ روز ایک بیان میں کہا تھا کہ کریک ڈاؤن جاری رکھا جائے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں