بیروت: حزب اللہ کے کمپلیکس کے نزدیک ہولناک کار بم دھماکا

گنجان آباد علاقے میں بم دھماکے میں 20 افراد ہلاک، بیسیوں زخمی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

لبنان کے دارالحکومت بیروت میں شیعہ ملیشیا حزب اللہ کے ایک کمپلیکس کے نزدیک زوردار دھماکا ہوا ہے جس کے نتیجے بیس افراد ہلاک اور بیسیوں زخمی ہوگئے ہیں۔

لبنانی فوج نے ایک بیان میں کہا ہے کہ جمعرات کو لبنانی دارالحکومت کے گنجان آباد جنوبی علاقے میں بارود سے بھری کار کے پھٹنے سے دھماکا ہواہے۔ اس کے بعد وہاں کھڑی گاڑیوں کو آگ لگ گئی اور حزب اللہ کے کمپلیکس کے نزدیک واقع عمارتیں دھماکے میں تباہ ہوگئی ہیں۔ ان عمارتوں کے ملبے میں بیسیوں افراد پھنس کررہ گئے ہیں۔

برطانوی خبررساں ادارے رائیٹرز نے عینی شاہدین کے حوالے سے بتایا ہے کہ زوردار دھماکے سے پانچ عمارتیں اور متعدد گاڑیاں تباہ ہوگئی ہیں اور علاقے سے سیاہ دھواں بلند ہورہا تھا۔

لبنانی میڈیا کی اطلاع کے مطابق بم دھماکا شیعہ آبادی والے علاقے رویس میں ہوا ہے اور یہ حزب اللہ کا مضبوط گڑھ ہے۔ بم دھماکے کے کئی منٹ کے بعد ٹیلی ویژن چینلز سے براہ راست نشر ہونے والی فوٹیج میں عمارتوں سے دھواں اٹھ رہا تھا اور اس سے متعدد رہائشی عمارتوں کے سامنے کے حصوں کو شدید نقصان پہنچا ہے۔

ایک مقامی ٹیلی ویژن چینل نے بتایا ہے کہ بم دھماکا سید الشہداء کمپلیکس کے نزدیک ہوا ہے۔ اسی جگہ میں حزب اللہ کے سربراہ حسن نصراللہ اکثر اپنے پیروکاروں سے خطاب فرماتے ہیں۔ گذشتہ ماہ بیروت کے ایک اور جنوبی علاقے میں کار بم دھماکا ہوا تھا جس میں پچاس سے زیادہ افراد زخمی ہوگئے تھے۔

واضح رہے کہ حزب اللہ کی شامی صدر بشارالاسد کی حمایت میں باغی جنگجوؤں کے خلاف لڑائی میں شرکت کے بعد سے لبنان میں فرقہ وارانہ کشیدگی عروج پر ہے۔لبنان کے اہل تشیع اپنے ہم مسلک شامی صدر بشارالاسد کی حمایت کررہے ہیں جبکہ اہل سنت شامی باغیوں کے حامی ہیں۔اسی حمایت اور مخالفت کی بنا پر بیروت اور دوسرے بڑے شہر طرابلس میں فریقین کے درمیان حالیہ مہینوں کے دوران خونریز جھڑپیں ہوچکی ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں