تیونس: النہضہ کے سربراہ نے غیرجانبدار حکومت کا مطالبہ مسترد کردیا

تمام سیاسی جماعتوں پر مشتمل قومی حکومت کے قیام کی حمایت کا عندیہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

تیونس کی حکمراں اسلامی جماعت النہضہ کے چئیرمین شیخ راشد الغنوشی نے حزب اختلاف کے غیر جانبدار حکومت کے قیام کے مطالبے کو مسترد کردیا ہے اور کہا ہے کہ ایسی حکومت سے ملک موجودہ پیچیدہ صورت حال سے نہیں نکل سکتا۔

انھوں نے جمعرات کو دارالحکومت تیونس میں نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اس بات کا عندیہ دیا ہے کہ ''وہ قومی اتحاد کی حکومت کو قبول کرنے کو تیار ہیں لیکن اس کی یہ شرط ہے کہ اس میں تمام سیاسی جماعتوں کی نمائندگی ہونی چاہیے''۔

انھوں نے کہا کہ '' ہم غیر جماعتی حکومت کو مسترد کرتے ہیں کیونکہ اس طرح کی حکومت ملک کی موجودہ پیچیدہ صورت حال کو سنبھال نہیں سکتی ہے''۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو ملک کو درپیش سیاسی اور اقتصادی ایشوز سے نمٹنے کے لیے بہت زیادہ وقت درکار ہے۔

واضح رہے کہ النہضہ کے سیکرٹری جنرل اور سابق وزیراعظم حمادی جبالی نے گذشتہ روز ایک بیان میں حزب اختلاف کے غیرجانبدار حکومت کے قیام کے مطالبے کی حمایت کی تھی اور کہا تھا کہ آیندہ عام انتخابات چھے ماہ میں ہونے چاہئیں۔

تیونس کی سیکولر حزب اختلاف کی جماعتیں گذشتہ مہینوں کے دوران حکومت مخالف دو لیڈروں کے قتل کے بعد سے احتجاجی مظاہرے کررہی ہیں۔ انھیں مصر میں منتخب جمہوری صدرڈاکٹر محمد مرسی کی حکومت کی مسلح افواج کے ہاتھوں برطرفی سے بھی حوصلہ ملا تھا اور وہ یہ توقع لگائے بیٹھی تھیں کہ تیونس کی مسلح افواج بھی ایسا اقدام کرگزریں گی لیکن ابھی تک ان کی یہ امید بر نہیں آئی ہے۔ حزب اختلاف کی جماعتیں دستورساز اسمبلی کی تحلیل اور النہضہ کی قیادت میں حکومت کو برطرف کرنے کا مطالبہ کررہی ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں