.

شامی فوج کو شکست، جیش الحر نے دیر الزور میں فتح کا پرچم لہرا دیا

ادلب میں بشار الاسد کی فوج کے زیر استعمال اسلحے کا بڑا ذخیرہ تباہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں باغیوں جنگجوٶں پر مشتمل فوج جیش الحر نے کچھ عرصے کی پسپائی کے بعد محاذ جنگ پرایک مرتبہ پھر ڈرامائی انداز میں فتوحات کا سلسلہ شروع کیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق دیر الزور میں"الحویقہ" کے مقام پر جیش الحر نے اسد نواز فوج کے آخری ٹھکانے پر بھی قبضہ کر لیا ہے۔ ادلب، لاذقیہ اور حمص سمیت کئی دوسرے بڑے شہروں میں بھی سرکاری فوج اور باغیوں کے درمیان خون ریز لڑائی کی اطلاعات ہیں۔ کئی مقامات پر باغی فوجیوں کے سامنے سرکاری فوج کو پسپائی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

العربیہ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق دیر الزور میں "الحویقہ" کے مقام پر قبضے کے لیے باغیوں نے فیصلہ کن لڑائی ایک روز قبل شروع کی تھی۔ باغی فوجیوں نے دیسی ساختہ اور ہاون طرز کے راکٹوں کا بھرپور استعمال کیا۔ الصناعہ کالونی میں سرکاری فوج کا ہیڈکواٹر جلا دیا گیا ہے اور سرکاری فوجی شہر کے آخری ٹھکانے سے بھی فرار ہو گئے ہیں۔

ادھر ادلب میں جیش الحرنے سرکاری فوج کے مراکز پر تباہ کن حملے کیے ہیں، جن میں دشمن کے بھاری جانی اور مالی نقصان کی اطلاعات ہیں۔ شہر کے شمال میں معمرہ النعمان کے مقام پر سرکاری فوج کا اسلحے کا ایک بھاری ذخیرہ دھماکوں سے تباہ کردیا گیا۔ اسی شہر میں القرمید کارخانے میں متمرکز سرکاری فوج پر بھاری ہتھیاروں سے حملے کیے گئے ہیں تاہم ان حملوں میں ہونے والے جانی اور مالی نقصان کی تفصیلات سامنے نہیں آسکیں۔

انسانی حقوق کے کارکنوں اور عینی شاہدین کے مطابق صوبہ حمص کے الحولہ شہر میں زور دار دھماکوں اور فائرنگ کی آوازیں سنائی دے رہی ہیں۔ جیش الحر نے سرکاری فوج اور کرائے کے قاتلوں کو ہاون راکٹوں سے نشانہ بناہا۔ اللاذقیہ شہر میں برزہ، القابون اور یرموک کیمپ پر اسدی فوج نے بمباری جاری رکھی ہوئی ہے۔ شہر کی کئی کالونیوں میں باغیوں اور سرکاری فوج کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ بھی مسلسل جاری ہے۔