صہیونی گروپ نے خاموشی سے 17 یمنی یہودیوں کو اسرائیل پہنچا دیا

یمن میں 90 سے بھی کم یہودی مقیم رہ گئے، حملوں کے خوف سے نقل مکانی جاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ایک اسرائیلی تنظیم نے یمن سے سترہ یہودیوں کو بڑی خاموشی سے اسرائیل پہنچا دیا ہے۔

دوسرے ممالک میں مقیم یہودیوں کو اسرائیل منتقل کرنے کے ذمے دار محکمے (ایجنسی) کی خاتون ترجمان آریلی ڈی پورٹو نے ایک بیان میں بتایا ہے کہ ''یمن سے براہ راست پرواز کے ذریعے چار بالغوں اور ایک بچے کو بدھ کو تل ابیب کے نزدیک واقع بن گورین ہوائی اڈے پر پہنچایا گیا ہے''۔

ان پانچوں یہودیوں کا چند روز قبل ارجنٹینا سے اسی طرح کے آپریشن کے ذریعے اسرائیل پہنچائے گئے اپنے بارہ رشتے داروں کے ساتھ ملاپ ہوگیا ہے۔ ارجنٹینا سے لائے جانے والے ان یہودیوں کو 2011ء میں یمن سے ستمار حسدیک یہودی کمیونٹی کی مدد سے منتقل کیا گیا تھا۔

ڈی پورٹو نے یہ نہیں بتایا کہ یمن سے ان یہودیوں کو کیسے ارجنٹینا منتقل کیا گیا تھا اور صرف یہ کہا ہے کہ یہ دونوں خفیہ آپریشن تھے۔ یہودی ایجنسی نے جمعرات کو ایک بیان میں کہا ہے کہ اس نے اسرائیل کی وزارت خارجہ اور داخلہ کے ساتھ مل کر یمن سے سترہ یہودیوں کو لانے کے لیے کام کیا تھا۔

خاتون ترجمان کے بہ قول گذشتہ چند ماہ کے دوران یمن میں سلامتی کی صورت حال بگڑنے کے بعد کم سے کم پچاس یمنی یہودیوں کو اسرائیل منتقل کیا جاچکا ہے جبکہ 2009 ء کے بعد کل ایک سو اکاون یہودیوں کو اسرائیل میں لابسایا گیا ہے۔

یمن سے یہودیوں کی منتقلی کی ایک وجہ یہ بیان کی گئی ہے وہاں یہود مخالف واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔ خاص طور پر 2008ء کے بعد یہودی کمیونٹی کو ڈرانے دھمکانے کے واقعات اور حملے بڑھ گئے ہیں۔ اس سال ایک یہودی اسکول استاد موشے نہاری کو قتل کردیا گیا تھا اور 2010ء میں یہودی کمیونٹی کے لیڈر آرون زندانی کو ہلاک کردیا گیا تھا۔

ایجنسی کا کہنا ہے کہ اس وقت یمن میں نوے سے بھی کم یہودی رہ گئے ہیں۔ ان میں نصف دارالحکومت صنعا میں رہ رہے ہیں۔یادرہے کہ 1948ء میں صہیونی ریاست کے قیام کے ایک سال بعد 1949ء میں قریباً انچاس ہزار یمنی یہودیوں کو فضائیہ کے ذریعے اسرائیل منتقل کیا گیا تھا۔فلسطینیوں کی سرزمین پر یہودیوں کی اس آبادکاری کو ''آپریشن میجک کارپٹ'' کا نام دیا گیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں