مصر: مرسی کے حامیوں کے خلاف کریک ڈاون،525 ہلاک

فوج کے روڈ میپ پرعمل ہوگا، عبوری وزیر اعظم حازم الببلاوی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

مصر کے دارالحکوت قاہرہ میں مرسی کے حامیوں کے دھرنوں کو اکھاڑ پھینکنے کے لیے کیے گئے آپریشن کے دوران اور اس کے بعد ملک بھر میں لقمہ اجل بننے والوں کی تعداد کم از کم 525 اور زخمیوں کی تعداد 2000 سے زیادہ ہو گئی ہے۔ وزیر اعظم حازم الببلاوی نے اس کامیاب آپریشن کے دوران سکیورٹی فورسز کو مبارک باد دی ہے اور ان کی طرف سے تحمل دکھائے جانے کی تحسین کی ہے ۔

عبوری وزیر اعظم نے مرسی کے حامیوں کے خلاف کریک ڈاون کرنے کے حکومتی فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا حکومت کے پاس اس کے سوا کوئی راستہ نہ تھا۔ عبوری وزیر اعظ٘م نے اس موقع پر دو ٹوک انداز میں کہا '' فوج کی طرف سے دیے گئے روڈ میپ پر عمل کیا جائے گا، جس کے تحت عام انتخابات 2014 کو ہوں گے"'

وزارت داخلہ کے حکام نے میڈیا کو بتایا ہے بدھ کی رات تک ہر طرف سکون ہو گیا ۔ پہلے جمہوری طور پر منتخب ہونے کے بعد برطرف ہونے والے صدر مرسی کے سینکڑوں حامیوں نے سرکاری ذرائع کے مطابق آپریشن کے بعد سرکار کی جانب سے محفوظ راستہ ملنے پر مسجد رابعہ العدوایہ مکمل خالی کر دی تھی اور سکیورٹی فورسز مسجد رابعہ اور النہضہ چوک پر اپنا کنٹرول قائم کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔

عبوری وزیر داخلہ محمد ابراہیم جنہوں نے حسنی مبارک کے دور کا امن لانے کے لیے اسی دور کی وحشیانہ شہرت رکھے والے پولیس افسران کو نئے سرے سے پولیس میں داخل کیا ہے، میڈیا کو بتایا کہ معزول صدر مرسی کے حامیوں سے ہزاروں کی تعداد میں ہتھیار پکڑے گئے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ حکومت اب کسی احتجاجی کیمپ کی اجازت نہیں دے گی ۔ کسی نےغیر ذمہ دارانہ احتجاج کرنے کی کوشش کی تو اس کے ساتھ سختی سے نمٹا جائے گا۔

بدھ کے روز رات گئے تک 525 ہلاکتیں کنفرم ہوئی ہیں۔ سرکاری ذرائع کے مطابق ان میں 43 سکیورٹی اہلکار بھی شامل ہیں۔ دوسری جانب ایک اہم غیرملکی خبر رساں ادارے کے مطابق مسجد رابعہ العدوایہ سے متصل سکیورٹی فورسز کی طرف سے بنائے گئے ایک عارضی مردہ خانے میں لائے گئے افراد کی موت گولی لگنے ہوئی تھی اور ان میں سے کوئی عورت یا بچہ شامل نہ تھا۔

وزارت داخلہ کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں کم از کم 30 موفیہ میں، کم از کم 15 اسماعیلیہ میں اور دس سے زائد سکندریہ میں مارے گئے ہیں۔ وزیر اعظ٘م کا کہنا ہے کریک ڈاون سے پہلے حکومت نے مصالحتی کوششوں کو پورا موقع دیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں