.

اخوان المسلمون خلیجی ریاستوں کے لیے خطرہ ہے: امریکی دانشور

"کویت، یو اے ای اور سعودی عرب کے اخوان انتشار پھیلا سکتے ہیں"

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی دانشور اور ممتاز صحافی جوزف براڈوے نے اخوان المسلمون کو خلیجی ریاستوں بالخصوص کویت، متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب کے لیے 'سیکیورٹی رسک' قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ خلیجی ملکوں کو اپنے ہاں موجود اخوان المسلمون کی ہم خیال امہ پارٹیوں سے خطرہ ہے اور یہ لوگ حکومتوں اور سیکیورٹی اداروں کے خلاف کسی بھی وقت گڑ بڑ پیدا کرکے ریاستی نظام درہم برہم کرسکتے ہیں۔

امریکی دانشور جوزف براڈوے نے ان خیالات کا اظہار "العربیہ" نیوز چینل کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور کویت میں سرگرم اخوان المسلمون کی تین مرکزی جماعتوں [احزاب الامہ] کا اپنے تئیں دعویٰ ہے کہ وہ پرامن جدوجہد کر رہی ہیں لیکن ان کی صفوں میں مسلح جدوجہد کی حمایت موجود ہے۔ اس کی بہتر مثال شام میں دیکھی جاسکتی ہے۔ انہی کے دینی نظریاتی لٹریچر کی کوکھ سے القاعدہ جیسی تنظیموں نے جنم لیا ہے۔

مسٹر جوزف سے جب پوچھا گیا کہ اخوان المسلمون متحدہ عرب امارات میں حکومت کا تختہ الٹنے کی کتنی صلاحیت رکھتی ہے؟ تو ان کا کہنا تھا کہ خلیجی ملکوں میں اخوان المسلمون کے حقیقی خطرے کا درست اندازہ لگانا کافی مشکل ہے تاہم سعودی عرب کی ایک جیل میں زیر حراست اُمہ پارٹی کے ایک بانی رکن کا دعویٰ ہے کہ 12 ہزار جانثار اس کےا یک اشارے پر جزیرہ عرب میں طبل جنگ بجا سکتے ہیں۔

خلیجی ریاستوں کے لیے خطرہ بننے والے اخوانی گروپوں کے مالی سوتوں سے متعلق سوال کے جواب میں امریکی تجزیہ کار کا کہنا تھا کہ اخوان کی حامی امہ پارٹی جس خلیجی ملک میں سرگرم ہے اس کو زیادہ مدد اسی ملک سے مل رہی ہے، تاہم کویت اور سعودی عرب سے بھی ایسے گروپوں کو مالی سپورٹ مل رہی ہے۔

مسٹر جوزف کا کہنا تھا کہ اخوان المسلمون کے پاس خلیجی ملکوں میں بڑے پیمانے پر فوجی کارروائیاں کرنے کی بھی صلاحیت ہے اور خلیجی ریاستوں کی امہ پارٹی اپنے مصری ہم خیالوں سے بھی مشن کو آگے بڑھانے کے لیے افکارو خیالات کا تبادلہ کرتی ہے۔

خیال رہے کہ اخوان المسلمون کے خلیجی ریاستوں بارے خطرے کی تازہ بحث ایک ایسے وقت میں شروع ہوئی ہے جب مصر میں اخوان مسلح افواج کے خونی حملوں کی زد میں ہیں۔ اخوان المسلمون سے وابستہ رہنے والے معزول صدر ڈاکٹر محمد مرسی سمیت جماعت کی بیشتر قیادت زیرحراست ہے اور جماعت کا دعویٰ ہے کہ فوج نے اس کے دو ہزار کارکنوں کو قتل کر دیا ہے۔ مبصرین کا خیال ہے کہ خلیج میں اخوان المسلمون کے خطرے کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنے کا مقصد مصر میں اخوان کے احتجاج کو کمزور کرنا ہے۔