.

اخوان المسلمون کا 'یوم الغضب' کے سلسلے میں 28 ریلیوں کا اعلان

رابعہ العدویہ اور النھضہ دھرنوں کے خلاف سیکیورٹی فورسسز کی بربریت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر میں گزشتہ روز حکومت کی جانب سے سابق جمہوری صدر محمد مرسی کے حامیوں کے خلاف کریک ڈاؤن میں ہلاکتوں کی تعداد 638 ہو چکی ہے۔ آج جمعہ کے روز اخوان المسلمون نے فوجی آپریشن کے خلاف 'یومِ غضب' منانے کا اعلان کیا ہے۔

اخوان المسلمون نے ان ہلاکتوں کے خلاف نمازِ جمعہ کے بعد قاہرہ اور الجیزہ میں احتجاجی ریلیاں نکالنے کا اعلان کیا ہے۔ تنظیم نے اپنے حامیوں سے کہا ہے کہ وہ نمازِ جمعہ کے لیے مساجد میں جمع ہوں اور پھر قاہرہ کی سڑکوں پر نکلیں۔ بی بی سی کی نامہ نگار کے مطابق اخوان کا کہنا ہے کہ ان مظاہروں کا نعرہ ’عوام فوجی بغاوت کا خاتمہ چاہتے ہیں‘ ہوگا۔

اخوان المسلمون کا کہنا ہے کہ بدھ کو آپریشن میں دو ہزار سے زیادہ افراد مارے گئے۔ تنظیم کے مطابق انہوں نے 300 لاشیں مسجدِ ایمان منتقل کی ہیں جبکہ دیگر لاشوں کو کھیلوں کے مراکز میں لے جایا گیا ہے۔

مصر کی سب سے بڑی دینی سیاسی جماعت اخوان المسلمون کئی ہفتوں سے جولائی میں صدر محمد مرسی کی برطرفی کے خلاف مظاہرے کر رہی ہے اور سکیورٹی فورسز نے بدھ کو قاہرہ میں محمد مرسی کی جماعت اخوان المسلمین کے حامیوں کے دو کیمپوں پر دھاوا بول کر ان کا کنٹرول سنبھال لیا تھا۔

مظاہرین نے مسجدِ رابعہ اور النہضہ چوک میں صدر مرسی کی معزولی کے بعد سے دھرنا دے رکھا تھا اور ان کا مطالبہ تھا کہ معزول صدر مرسی کو بحال کیا جائے جنھیں فوج نے تین جولائی کو اقتدار سے الگ کر دیا تھا۔