.

اوباما کا بیان دہشت گردوں کے لیے حوصلہ افزاء ہے: مصر

مسلح گروہ جمہوریت اور مصری تہذیب کے خلاف ہیں: عبوری صدر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کے عبوری صدر عدلی منصور نے امریکی صدر باراک اوباما کے مصر میں انسانی جانوں کے ضِاع پر جاری کیے بیان کو حقائق کے منافی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ صدر اوباما کے اس بیان سے تشدد پسند گروپوں کی حوصلہ افزائی ہو گی اور وہ مضبوط ہوں گے۔

عدلی منصور کے مطابق ''مصر کو اس وقت ایسی دہشت گردی کا سامنا ہے، جو حکوتی اداروں اور عوامی سہولیات کو ہدف بنائے ہوئے ہے اور دسیوں گرجا گھر،عدالتیں، پولیس تھانے نیز سرکاری ونجی ادارے اس کا نشانہ بن چکے ہیں۔''

مسلح گروپ پرتشدد کارروائیوں کے ذریعے انسانی زندگیوں اور مصری تہذیب کے خدوخال کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ حتی کہ لائبریریاں، عجائب گھر اور عوامی باغات تک ان گروہوں کا ہدف ہیں۔'' اس لیے مصر کے صدراتی محل کو ڈر ہے کہ صدر اوباما کا بیان حقائق پر مبنی نہیں ہے اور یہ بیان مسلح دہشت گرد گروہوں کی حوصلہ افزائی کرے گا کہ وہ جمہوریت مخالف راستے پر قائم رہیں۔"

واضح رہے امریکی صدر اوباما نے بدھ کے مصری سکیورٹی فوسز کے معزول صدر کے حامیوں کے خلاف ہونے والے کریک ڈاون کے نتیجے میں سینکڑوں شہریوں کی ہلاکت پر مصری اور امریکی افواج کی مشترکہ مشقوں ''سٹار برائٹ'' میں امریکی افوا ج کے شرکت نہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ نیز مصری عبوری حکومت اور سکیورٹی فورسز کے اقدامات کی سخت مذمت کرتے ہوئے ان اقدامات کی وجہ سے مصر کو خطرناک راستے پر گامزن قرار دیا ہے۔