.

مصر میں ہنگامے اور تشدد کے واقعات، بیسیوں ہلاک

برطرف صدر محمد مرسی کے حامیوں کے 'یوم الغضب' کے سلسلہ میں احتجاجی مظاہرے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کے دارالحکومت قاہرہ اور دوسرے شہروں میں برطرف صدر محمد مرسی کے حامیوں کے خلاف خونریز کریک ڈاؤن کے ردعمل میں احتجاجی مظاہروں کے دوران تشدد کے واقعات میں بیسیوں افراد ہلاک اور زخمی ہوگئے ہیں۔

اخوان المسلمون نے آج نماز جمعہ کے بعد مصری سکیورٹی فورسز کی کارروائی کے خلاف یوم الغضب منایا اور احتجاجی مظاہرے کیے ہیں۔ مظاہرین نے ڈاکٹر مرسی کی تصاویر اور قومی پر چم اٹھا رکھے تھے اور وہ فوجی حکمرانی کے خلاف سخت نعرے بازی کررہے تھے۔

بحیرہ روم کے کنارے واقع شہر دمیاطہ میں سکیورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپوں میں آٹھ افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔مصر کے میڈیکل ذرائع نے ان ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے۔

دارالحکومت قاہرہ میں دو مظاہروں کی جگہوں سے فائرنگ کی آوازیں سنی گئی ہیں۔شہر کے رامسیس اسکوائر سے دھواں اٹھ رہا تھا۔اس علاقے میں نماز جمعہ کے بعد ہزاروں افراد نے سکیورٹی فورسز کی کارروائی کے خلاف احتجاجی جلوس نکالا ہے۔ برطانوی خبررساں ادارے رائیٹرز کی اطلاع کے مطابق اس علاقے میں چار افراد مارے گئے ہیں۔

نہرسویز کے کنارے واقع شہر اسماعیلیہ میں سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں میں برطرف صدر محمد مرسی کے پانچ حامی مارے گئے ہیںالعربیہ کے نمائندے نے پورٹ سعید سے مرسی کے حامیوں اور سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپوں کی اطلاع دی ہے۔

مصر کے سرکاری میڈیا نے بتایا ہے کہ قاہرہ میں ایک چوک پر مسلح افراد کے حملے میں ایک پولیس اہلکار ہلاک ہوگیا ہے۔ دارالحکومت کے شمال میں واقع طنطا میں بھی اخوان المسلمون کے کارکنان اور مصری فورسز کے درمیان جھڑپیں ہوئی ہیں۔ملک کے دوسرے بڑے شہر اسکندریہ ،قاہرہ کے جنوب میں واقع شہروں بنی اسیوف اور فایوم سے بھی احتجاجی مظاہروں کے دوران تشدد کے واقعات کی اطلاعات ملی ہیں۔

قاہرہ میں اخوان المسلمون اور ڈاکٹر محمد مرسی کے حامیوں کے یوم الغضب کے سلسلہ میں مظاہروں سے قبل فوج کی بھاری نفری تعینات کی گئی تھی اور شہر سنسان نظر آرہا تھا۔ فوجیوں نے شہر میں بڑی شاہراہوں کو رکاوٹیں کھڑی کرکے بند کردیا تھا۔بعض علاقوں میں شہریوں نے از خود بھی رکاوٹیں کھڑی کر کے شاہراہیں بند کردی تھیں اور وہ آنے والی کاروں کی تلاشی لے رہے تھے اور ان میں سوار افراد کی شناختی دستاویزات ملاحظہ کررہے تھے۔

مصر کی مسلح افواج نے بدھ کو قاہرہ میں برطرف صدر محمد مرسی کے ہزاروں حامیوں کے دو دھرنوں کو خونریز مسلح کارروائیوں کے ذریعے ختم کردیا تھا۔ سکیورٹی فورسز کی ان کارروائیوں میں پانچ سو اٹھہتر افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ اس کے بعد سے ملک بھر میں ہنگامے پھوٹ پڑے ہیں اور ڈاکٹر مرسی کے حامیوں اور سکیورٹی فورسز کے درمیان خونریز جھڑپیں جاری ہیں۔