.

ہزاروں شامی مہاجرین کی نئی سرحدی گذرگاہ سے عراق آمد

مصر میں شامی مہاجرین مشکل صورت حال سے دوچار ہیں: ترجمان یو این ایچ سی آر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں خانہ جنگی سے متاثر ہزاروں افراد جمعرات کو عراق کے ساتھ واقع سرحدی علاقے میں دریائے دجلہ پر تعمیر کردہ ایک نئے پل کے ذریعے شمالی کردستان پہنچ گئے ہیں۔

اقوام متحدہ کے پناہ گزینوں کے ادارے نے جمعہ کو ایک بیان میں کہا ہے کہ پانچ سے سات ہزار شامی مہاجرین پیش خبر کے علاقے میں دریائے دجلہ پر تعمیر کردہ پل کے ذریعے کردستان پہنچے ہیں۔ ان سے پہلے ساڑھے سات سو شامی سرحد عبور کر کے شامی علاقے میں پہنچے تھے۔شامی سرحد کی جانب بسوں کے ذریعے شام کے مختلف علاقوں سے مزید خاندانوں کی آمد کا سلسلہ جاری ہے۔

اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے مہاجرین کے ترجمان ایڈریان ایڈورڈز نے جنیوا میں نیوز بریفنگ میں بتایا ہے کہ ''گذشتہ روز اچانک ہزاروں شامی سرحد عبور کر کے شمالی عراق میں پہپنچے ہیں''۔

شام سے نقل مکانی کرنے والوں کا تعلق شمالی شہر حلب، الحکسہ اور دوسرے علاقوں سے ہے جہاں صدر بشارالاسد کی وفادار فوج اور باغی جنگجوؤں کے درمیان لڑائی جاری ہے۔

یو این ایچ سی آر کی رپورٹ کے مطابق عراق میں اس سے پہلے ڈیڑھ لاکھ سے زیادہ شامی مہاجرین رہ رہے ہیں۔ ادارے نے شام کے تمام ہمسایہ ممالک پر زوردیا ہے کہ وہ خانہ جنگی سے متاثر شامیوں کے لیے اپنی سرحدیں کھلی رکھیں۔

تاہم عراق اور شام کے درمیان سرحد زیادہ تر بند ہی رہی ہے کیونکہ کردستان کی علاقائی حکومت نے 19 مئی کو مذکورہ بارڈر کراسنگ کو بند کردیا تھا۔اس کے علاوہ صوبہ الانبار میں الواحد کراسنگ پوائنٹ سے بعض شامیوں کو ان کے خاندانوں سے ملنے یا پھر انتہائی انسانی ضروریات کے تحت عراق میں داخل ہونے کی اجازت دی گئی تھی۔

ترجمان ایڈورڈ سے جب عراق میں فرقہ وارانہ تشدد کے حالیہ واقعات کے تناظر میں امن وامان کی خراب صورت حال کے بارے میں پوچھا گیا تو ان کا کہنا تھا ''کردستان نسبتاً محفوظ اور مستحکم ہے۔ تاہم آیندہ انتخابات اور بعض دوسرے عوامل کی بنا پر وہاں کشیدگی پیدا ہوئی ہے''۔

اقوام متحدہ کا ادارہ مصر میں جاری ابتری کو بھی مانیٹر کررہا ہے جہاں ایک لاکھ سات ہزار رجسٹرڈ مہاجرین رہ رہے ہیں۔ ترجمان نے کہا کہ ''مصر میں شامی مہاجرین بہت ہی مشکل صورت حال سے دوچار ہیں لیکن وہ مصر میں اس صورت حال سے دوچار اکیلے نہیں ہیں، ہم ان کے تحفظ کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے ہر ممکن اقدام کریں گے''۔