.

علی اکبر صالحی ایران کے جوہری توانائی ادارے کے دوبارہ سربراہ مقرر

حسن روحانی نے غیر لچکدار فریدون عباسی کو نظر انداز کردیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے صدر حسن روحانی نے سبکدوش ہونے والے وزیرخارجہ علی اکبر صالحی کو جوہری توانائی ادارے کا نیا سربراہ مقرر کردیا ہے۔

ایرانی پارلیمان نے جمعرات کو علی اکبر صالحی کی جگہ نئے وزیرخارجہ کے تقرر کی منظوری دی تھی۔ اس کے بعد صالحی کو دوبارہ جوہری توانائی ادارے کا سربراہ بنا دیا گیا ہے۔ وہ غیر لچکدار فریدون عباسی دیوانی کی جگہ لیں گے۔

نئے ایرانی صدر کی جانب سے صالحی کے تقرر پر تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے وہ اپنے پیش رو محمود احمدی نژاد کے برعکس جوہری پروگرام کے بارے میں مغرب کے ساتھ زیادہ لچک دار پالیسی پر عمل پیرا ہونے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

تاہم ایران کی اٹامک انرجی آرگنائزیشن کا سربراہ عالمی طاقتوں کے ساتھ جوہری مذاکرات کا براہ راست ذمے دار نہیں ہے بلکہ وہ ایران کی جوہری تنصیبات کو چلانے کا ذمے دار ہوتا ہے اور ہرسال ستمبر میں ویانا میں جوہری توانائی کے عالمی ادارے (آئی اے ای اے) کے سالانہ اجلاس میں شریک ہوتا ہے۔

علی اکبر صالحی 2011ء سے ایران کے وزیرخارجہ چلے آرہے تھے۔ بین الاقوامی ادارہ برائے تزویراتی مطالعات کے عدم پھیلاؤ اور عدم اسلحہ پروگرام کے ڈائریکٹر مارک فٹز پیٹرک نے ان کے نئے تقرر پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ''یہ ایک اور عاقلانہ تقرر ہے۔ صالحی سابق صدر محمود احمدی نژاد کے وزراء میں سے سب سے بہتر تھے۔ انھیں ان کے سابقہ عہدے پر دوبارہ بحال کر کے حسن روحانی نے غیر لچکدارعباسی دیوانی کو سائیڈلائن کر دیا ہے''۔

صدر حسن روحانی نے ابھی تک ایران کی قومی سلامتی کونسل کے نئے سربراہ کا تقرر نہیں کیا ہے۔ یہی عہدے دار ایران کا اعلیٰ جوہری مذاکرات کار بھی ہوتا ہے۔ اس عدم تقرر پر بعض تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ نئے صدر شاید جوہری مذاکرات کار کو وزارت خارجہ کے تحت لانا چاہتے ہیں اور وہ مغرب کے ساتھ جوہری تنازعے پر مذاکرات کے عمل کو بہتر بنانا چاہتے ہیں۔