.

سعودی حکومت مکہ کے مغربی داخلی راستے کو وسعت دے گی

جرائم کی مرکز بستی'' ہوش بکر'' گرانے کے لیے مکینوں کو نوٹس جاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مکہ مکرمہ آنے والے عازمین حج اور معتمرین کی آمد و رفت کے راستوں کو توسیع دینے کے لیے مضافاتی بستی کو راستے سے ہٹانے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔ ''ہوش بکر'' نامی بستی کے مکینوں کو 27 اگست تک بستی خالی کرنے کے لیے نوٹس دے دیا گیا ہے۔

مسلمانوں کے مقدس شہر مکہ سے متصل یہ آبادی زیادہ تر افریقی ممالک کے باشندوں اور چوری کے سامان کی مارکیٹ کے طور پر جانی جاتی ہے اور جرائم پیشہ عناصر کی بود و باش یا ٹھکانوں کے حوالے سے شہرت رکھتی ہے۔ اس وجہ سے پولیس با رہا اس بستی میں چھاپے بھی مار چکی ہے تاہم سماج دشمن سرگرمیوں میں مستقل کمی نہیں ہو سکی ہے۔

پسماندہ اور غیر ترقی یافتہ علاقوں کے لیے مکہ معظمہ کی انتظامی کمیٹی نے مذکورہ بستی کے مکینوں کو نوٹس دے دیا ہے کہ مقررہ تاریخ تک گھروں کو چھوڑ دیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق لوگوں میں اس بات پر خوشی پائی جاتی ہے کہ اس بستی کے خاتمے سے جرائم کا بھی سد باب ہو جائے گا۔

واضح رہے'' ہوش بکر'' میں 90 فیصد کے قریب افریقی باشندے رہتے ہیں جن کے پاس مقامی شناختی کارڈ یا کوئی اور شناختی دستاویز موجود نہیں ہیں۔

اس بستی کے خاتمے کے بعد مکہ کے مغربی داخلی راستے کو وسعت ملے گی اور''حرمین ریل منصوبے'' کے ساتھ ساتھ شاہ عبدالعزیز روڈ کے منصوبے پر بھی عمل ممکن ہو سکے گا۔